تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 2
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ﴿2﴾
- قَيِّمًاٹھیک سیدھی
- لِّيُنْذِرَتاکہ ڈر سنائے
- بَاْسًاعذاب
- شَدِيْدًاسخت
- مِّنْ لَّدُنْهُاس کی طرف سے
- وَيُبَشِّرَاور خوشخبری دے
- الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں
- الَّذِيْنَوہ جو
- يَعْمَلُوْنَعمل کرتے ہیں
- الصّٰلِحٰتِاچھے
- اَنَّ لَهُمْکہ ان کے لیے
- اَجْرًا حَسَنًااچھا اجر
Translation · Tadabbur-e-Quran
بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک اعمال کر رہے ہیں، اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ ان کے لیے بہت اچھا اجر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کا مقصد:
لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ : یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار و ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں " للکافرین " یا " للمکذبین " محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں " مومنین " موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کررہا ہے۔ فعل " ینذر " کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور " عبد " یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کردے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا رسول لوگوں کو خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب شدید سے متنبہ کردے۔ پہلی صورت میں " من لدنہ " کا لفظ اہتمام و عنایت پر دلیل ہوگا کہ اس مقصد کے لیے خدا نے خاص اپنے پاس اور اپنی نگرانی میں انتظام فرمایا۔ دوسری صورت میں اس سے عذاب کی شدت کا اظہار ہوگا کہ یہ عذاب کوئی ایسا ویسا عذاب نہیں ہوگا بلکہ قہر الٰہی ہوگا جس سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکے گا۔