Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 39

  1. وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ﴿39﴾

    1. وَلَوْلَآاور کیوں نہ
    2. اِذْجب
    3. دَخَلْتَتو داخل ہوا
    4. جَنَّتَكَاپنا باغ
    5. قُلْتَتونے کہا
    6. مَا شَآءَ اللّٰهُجو چاہے اللہ
    7. لَا قُوَّةَنہیں قوت
    8. اِلَّامگر
    9. بِاللّٰهِاللہ کی
    10. اِنْ تَرَنِاگر تو مجھے دیکھتا ہے
    11. اَنَامجھے
    12. اَقَلَّکم تر
    13. مِنْكَاپنے سے
    14. مَالًامال میں
    15. وَّوَلَدًااور اولاد میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ یہ جو کچھ ہے سب اللہ کا فضل ہے۔ اللہ کے بدون کس کسی کو کوئی قوت حاص نہیں۔ اگر تم مال و اولاد کے اعتبار سے مجھے اپنے سے کم دیکھتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْكَ مَالا وَوَلَدًا ایمان کا تقاضا : یہ بندہ مومن نے اس مستکبر کو ایمان کا صحیح تقاضا بتایا ہے کہ اگر تم نے مجھے مال و اولاد میں سے اپنے سے کم تر پایا تھا تو یہ چیز اکڑنے اور مغرور ہونے کی نہیں تھی بلکہ اس پر تمہیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا کہ تمہارے رب نے تم کو اپنے فضل سے نوازا۔ اس کا حق یہ تھا کہ جب تم اپنے ہرے بھرے، میووں سے لدے باغ میں داخل ہوتے تو ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہتے، یعنی یہ اعتراف کرتے کہ یہ سب کچھ رب کریم کا عطیہ ہے، اس کے بغیر کسی کو کوئی قوت و طاقت حاصل نہیں کہ کچھ بنا یا بگاڑ سکے۔ " انا " یہاں دونوں مفعولوں کے درمیان بطور ایک فاصل کے آگیا ہے۔ اس کو جملہ سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اس قسم کے زائد استعمال کی مثالیں کلام عرب میں بھی موجود ہیں اور ہماری اپنی زبان میں بھی۔