تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 42
وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا﴿42﴾
- وَاُحِيْطَاور گھیر لیا گیا
- بِثَمَرِهٖاس کے پھل
- فَاَصْبَحَپس وہ رہ گیا
- يُقَلِّبُوہ ملنے لگا
- كَفَّيْهِاپنے ہاتھ
- عَلٰيپر
- مَآ اَنْفَقَجو اس نے خرچ کیا
- فِيْهَااس میں
- وَھِيَاور وہ
- خَاوِيَةٌگرا ہوا
- عَلٰيپر
- عُرُوْشِهَااپنی چھتریاں
- وَيَقُوْلُاور وہ کہنے لگا
- يٰلَيْتَنِيْاے کاش
- لَمْ اُشْرِكْمیں شریک نہ کرتا
- بِرَبِّيْٓاپنے رب کے ساتھ
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کے پھلوں پر آفت آئی تو جو کچھ اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گر پڑا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش ! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ۔ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا۔
احیط بالشیء کے معنی ہیں وہ چیز تباہ کردی گئی
ندامت بعد از وقت : بالآخر وہی ہوا جس سے بندہ مومن نے ڈرایا تھا۔ کوئی آفت ارضی یا سماوی آئی اور اس نے سارے باغ کو آناً فاناً تباہ کرکے رکھ دیا۔ جن ٹٹیوں پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں وہ فرش زمین ہوگئیں اور سارا باغ ڈھے گیا۔ اب مغرور کی آنکھیں کھلیں، اس کو نظر آیا کہ جس باغ کی تباہی کو وہ بعید از امکان سمجھتا تھا وہ پلک جھپکتے یوں غارت ہو کے رہ گیا۔ تباہ شدہ باغ ایک میت کی طرح سامنے تھا اور وہ اس کی لاش پر کھڑا اپنے دونوں ہاتھ مل رہا تھا کہ اس سے کچھ یافت ہونی تو الگ رہی جو کچھ اس کے رکھ رکھاؤ پر خرچ کیا وہ بھی برباد ہوا۔ اس وقت اسے اپنے ناصح کی بات یاد آئی اور نہایت حسرت کے ساتھ بولا کہ کاش میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا۔
" اپنے رب کا شریک نہ بناتا " یعنی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس خبط میں نہ پڑتا کہ یہ سب کچھ میری قابلیت و صلاحیت کا کرشمہ اور میرے استحقاق ذاتی کا ثمرہ ہے بلکہ اس کو اپنے رب کا فضل سمجھتا اور اسی کا شکر گزار رہتا۔