Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 66

  1. قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴿66﴾

    1. قَالَکہا
    2. لَهٗاس کو
    3. مُوْسٰيموسیٰ
    4. هَلْکیا
    5. اَتَّبِعُكَمیں تمہارے ساتھ چلوں
    6. عَلٰٓيپر
    7. اَنْکہ
    8. تُعَلِّمَنِتم سکھا دو مجھے
    9. مِمَّااس سے جو
    10. عُلِّمْتَجو تمہیں سکھایا گیا ہے
    11. رُشْدًابھلی راہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
موسیٰ نے اس سے درخواست کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ بایں شرط رہ سکتا ہوں کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے آپ اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 66 تا 68: قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (66) قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (68)۔ حضرت خضر اور حضرت موسیٰ کے مابین معاہدہ رفاقت : رُشْدًا کے معنی علم و حکمت کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ خاص علم ہے جو اسرار کائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت خضرت کو بخشا۔ حضرت موسیٰ نے ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اس علم خاص میں سے، جو اللہ نے آپ کو بخشا ہے، مجھے بھی کچھ سکھائیں تو کچھ عرصہ اپنی خدمت میں مجھے رہنے کی اجازت دیجیے۔ حضرت خضر نے فرمایا کہ مجھے اجازت سے تو انکار نہیں ہے لیکن تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے۔ میرے ہاتھوں ایسے کام صادر ہوں گے جن کے بھید اور جن کی حکمت سے تم واقف نہیں ہوگے اور وہ کام تمہاری نگاہوں میں عجیب اور ناگوار ہوں گے تو آخر تم ان پر کس طرح صبر کروگے ؟