Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 19. Maryam · Ayah 17

  1. فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾

    1. فَاتَّخَذَتْپھر ڈال لیا
    2. مِنْسے
    3. دُوْنِهِمْان کی طرف
    4. حِجَابًاپردہ
    5. فَاَرْسَلْنَآپھر ہم نے بھیجا
    6. اِلَيْهَااس کی طرف
    7. رُوْحَنَااپنی روح (فرشتہ)
    8. فَتَمَثَّلَشکل بن گیا
    9. لَهَااس کے لیے
    10. بَشَرًاایک آدمی
    11. سَوِيًّاٹھیک
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۔ حضرت مریم کا امتحان : لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ حائل کرلینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست و توانا آدمی کی شکل میں ان کے سامنے نمودار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت مریم کا متحان لینا منظور تھا کہ فرشتہ بشری روپ میں نمدار ہوا ورنہ حضرات انبیاء کے لیے بھی فرشتوں کے ظہور کی عام شکل یہ نہیں رہی ہے۔ اس حادثہ کا جو اثر حضرت مریم پر جو ابھی فرشتہ اور ہاتف وغیرہ سے نا آشنا تھیں۔ پڑا ہوگا اس کا اندازہ کرنا کچھ آسان نہیں ہے لیکن اس نازک موقع پر حضرت مریم نے جس کردار کا مظاہر کیا وہ بےمثال ہے۔