Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 19. Maryam · Ayah 98

  1. وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾

    1. وَكَمْاور کتنے ہی
    2. اَهْلَكْنَاہم نے ہلاک کردئیے
    3. قَبْلَهُمْان سے قبل
    4. مِّنْسے
    5. قَرْنٍگروہ
    6. هَلْکیا
    7. تُحِسُّتم دیکھتے ہو
    8. مِنْهُمْان سے
    9. مِّنْ اَحَدٍکوئی۔ کسی کو
    10. اَوْ تَسْمَعُیا تم سنتے ہو
    11. لَهُمْان کی
    12. رِكْزًاآہٹ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کر چھوڑا۔ کیا تم ان میں سے کسی کو محسوس کرتے ہو یا ان کی کوئی آہٹ سنتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۔ " رکز " کے معنی آہٹ، سن گن اور کھٹکے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انذار وتبشیر ادا کردو۔ جو لوگ تمہاری بات نہیں سنیں گے، وہ اپنا انجام خود دیکھیں گے۔ تاریخ میں ان کے لیے کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہمارے عذاب کی زد میں آچکی ہیں تو کیا تم آج ان میں سے کسی کی کہیں بو بھی محسوس کرتے ہو یا ان کی کہیں آہٹ بھی سنتے ہو ! اسی طرح یہ بھی تمہاری تکذیب کی پاداش میں بےنام و نشان ہوجائیں گے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارقنا اجتنابہ، و صلی اللہ تعالیٰ علی محمد وبارک و سلم۔