Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 225

  1. لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿225﴾

    1. لَا يُؤَاخِذُكُمُنہیں پکڑتا تمہیں
    2. اللّٰهُاللہ
    3. بِاللَّغْوِلغو (بیہودہ)
    4. فِيْٓمیں
    5. اَيْمَانِكُمْقسمیں تمہاری
    6. وَلٰكِنْاور لیکن
    7. يُّؤَاخِذُكُمْپکڑتا ہے تمہیں
    8. بِمَاپر۔ جو
    9. كَسَبَتْکمایا
    10. قُلُوْبُكُمْدل تمہارے
    11. وَاللّٰهُاور اللہ
    12. غَفُوْرٌبخشنے والا
    13. حَلِيْمٌبردبار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ تم سے تمہاری عادی قسموں کے باب میں تو کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن ان قسموں کے باب میں تم سے ضرور مواخذہ کرے گا جو تمہارے دل کے ارادے کا نتیجہ ہیں اور اللہ بخشنے والا اور حلیم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ارادی اور غیر ارادی قسمیں : یعنی اس مواخذہ سے صرف وہی قسمیں مستثنی ہیں جو بالکل غیر ارادی طور پر زبان پر جاری ہوجاتی ہیں، جن کا تعلق دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے ہوتا ہے، جو کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر نہیں کھائی جاتی ہیں بلکہ محض سخن تکیہ کے طور پر زبان سے اثنائے کلام میں ٹپک پڑا کرتی ہیں۔ لیکن جو قسمیں دل کے قصد و ارادہ اور قلب کے تعمد کا نتیجہ ہوں گی اور جن کا کوئی قریب یا بعید اثر آدمی کے اپنے یا دوسرے کے حقوق و مفادات پر پڑنے والا ہوگا، اگر ان میں خدا کے نام کو غلط طور پر استعمال کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان قسموں پر ضرور مواخذہ فرمائے گا۔ “ لغو ”قسموں کو اگرچہ مواخذہ سے مستثنی رکھا ہے اس لیے کہ خدا غفور اور حلیم ہے لیکن ان کو“ لغو ”کے لفظ سے تعبیر کر کے واضح کردیا کہ ثقہ اور سنجیدہ لوگوں کو ان سے بھی احتراز کرنا واجب ہے۔ قرآن میں شریک و شائستہ لوگوں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں ان میں یہ بات خاص طور پر بیان ہوئی ہے کہ وہ لغو چیزوں سے احتراز کرتے ہیں۔