Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 37

  1. وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ﴿37﴾

    1. وَلَقَدْ مَنَنَّااور تحقیق ہم نے احسان کیا
    2. عَلَيْكَتجھ پر
    3. مَرَّةًایک بار
    4. اُخْرٰٓىاور بھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی اپنا فضل کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 39-37 ماضی کے ایک فضل خاص کی یاد دہانی ولقد مننا علیک الایہ حضرت موسیٰ کا اضطراب رفع کرنے کے لئے جس طرح ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت سنائی گی اسی طرح ان کے اوپر اپنے اس فضل خاص کی بھی یاد دہانی فرما دی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وقت فرمایا جب ان کی ولادت ہوئی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ فرعون اسرائیلی بچوں کیق تل کی جو ظالمانہ اسکیم 1 1۔ یہ ظالمانہ اسکیم جن سیاسی خطرات کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں نے چلائی تھی ان کی وضاحت سورة اعراف کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة اعراف آیات 1/9- 112 حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات چلا رہا ہے اس کی زد میں وہ بھی آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت نہ صرف یہ کہ اپنی قدرت و حکمت سے حضرت موسیٰ کو بچایا بلکہ فرعون ہی سے ان کی پرورش کرائی اس واقعہ کی یاد دہانی سے مقصود یہ ہے کہ جس فرعون سے تمہاری حفاظت کے لئے خدا کی یہ شانیں ظاہر ہوچکی ہیں اس سے کوئی اندیشہ تمہارے دل میں کیوں خطور کرے۔ تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے۔ اذا وحینا الی امک مایوحی یہ اس فضل خاص کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ تمہاری حفاظت کے لئے ہم نے جو تدبیر پسند فرمائی اس کی وحی ہم نے تمہاری ماں کی طرف کی اور وہ وحی یہ تھی جو اب تمہیں وحی کی جا رہی ہے تاکہ تم پر واضح ہوجائے کہ ہم اس سے پہلے تمہارے اوپر اپنے کیسے بڑے بڑے فضل کرچکے ہیں۔ اگرچہ اس واقعہ کا اجمالی علم حضرت موسیٰ کو اپنی والدہ ماجدہ کے ذریعے سے رہا ہوگا لیکن اس کے اندر دست غیب کی جو کارفرمائیں تھیں ان کا پورا علم تو اس وحی کے ذریعہ ہی سے حضرت موسیٰ کو ہوا ہوگا۔ اسی بات کی طرف مایوحی کا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ کی والدہ کو کیا وحی کی گئی ؟ حضرت موسیٰ کی ماں کو جو وحی آئی وہ تو ظاہر ہے کہ اتصار اور الہام کی نوعیت کی ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ نے ایک بات ان کے دل میں ڈال دی اور انہیں یہ اطمینان بھی ہوگیا کہ یہ خدا کی ڈالی ہوئی بات ہے ان اقذفیہ فی التابوت فاقذفیہ فے الیم یہ وہ وحی ہے جو حضرت موسیٰ کی والدہ کو کی گیئ۔ ت ورات کی کتاب خروج 6-2:2 سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں حضرت موسیٰ کی ولادت ہوئی ہے اس زمانے میں اسرائیلی بچوں کے قتل کی سکیم بڑے زوروں سے چل رہی تھی حضرت موسیٰ کی والدہ نے کچھ عرصہ تک (تورات کی روایت کے مطابق تین ماہ تک) تو بچے کو ظالموں سے چھپائے رکھا لیکن ان کو ہر وقت یہ ڈر لگا ہوا تھا کہ اگر ظالم فرعونیں کو پتہ چلی گیا تو بچے کی خیر نہیں تورات کی روایت یہ ہے کہ بالآخر انہوں نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور بچے کو اس میں ڈال کے ٹوکرے کو دریا کے کنارے پر جھاڑ کے نیچے رکھ دیا کہ شاید اس طرح کسی رحمدل کی نظر بچے پر پڑجائے اور اس کی جان بچنے کی کوئی شکل نکل آئے۔ قرآن کا بیان یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی ماں کے دل میں ڈالی کہ بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر اس کو دریا میں ڈال دو اور اس باب میں کوئی فکر یا غم نہ کرو، ہم پھر بچے کو تمہاری طرف لوٹائیں گے اور اس کو اپنا رسول بنائیں گے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی بات زیادہ قرین قیاس ہے۔ بغیر اشارہ غبی کے حضرت موسیٰ کی والدہ آخر کس دل و جگر سے اتنا بڑا اقدام کرسکتی تھیں ؟ اشارہ غیبی کے بعد بھی نہ جانے ان کی مامتا پر کیا کچھ گزری ہوگی لیکن اس اشارہ غیبی نے چونکہ یہ اطمینان بھی دلا دیا تھا کہ تم یہ کر گزرو، اللہ تعالیٰ بچے کی حفاظت کا سامان خود کرے گا، اس وجہ سے انہوں نے کلیجہ پر پتھر رکھ کر اس کو دریا کی موجوں کے حوالے کردیا۔ سورة قصص آیت 7 میں اس اشارہ غیبی کی وضاحت یوں ہوئی ہے۔ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تخزنی ج انا رآدوہ الیک وجا علوہ من المرسلین (اور جب تمہیں اس کے باب میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور نہ ڈریو نہ غم کیجیو، ہم پھر اس کو تمہایر طرف لوٹائیں گے۔ اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے) اس اقدام کے وقت حضرت موسیٰ کی والدہ کے دل پر جو کچھ گزری ہے اس کی وضاحت سورة قصص کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم کریں گے۔ فلیلقہ الیم بالساحل یا خذہ عدولی وعدولہ یہ اس وحی کا جزو نہیں ہے جو حضرت موسیٰ کی ماں کو ہوئی اگر یہ بات بھی وحی میں شامل ہوتی تو اس کی صورت جو اب امر کی ہوتی حالانکہ فلیلقہ پر لام امر ہے اس وجہ سے یہ امر غائب ہے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ جواب امر کا کیا ہے ان کا ترجمہ بالکل غلط ہے اس کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ ”پس چاہے کہ دریا اس کو کنارے پر ڈال دے۔“ یعنی والدہ حضرت موسیٰ کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی کہ بچے کو صندوق میں رکھ کے دریا کے حوالہ کر دو اور دریا کو یہ حکم فرمایا کہ وہ اس کو کنارے پر ڈال دے۔ اس کو وہ اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ یہ حضرت موسیٰ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت اور اپنی شان و تدبیر کا اظہار فرمایا ہے کہ ہم نے تمہاری حفاظت و پرورش کے لئے اپنی یہ شان دکھائی کہ تمہاری ماں سے تمہیں دریا کی موجوں کے حوالہ کرایا اور پھر یوں چاہا کہ دریا تمہیں ساحل پر ڈال دے اور اس طرح میرا اور تمہارا دونوں کا جو دشمن ہے یعنی فرعون وہ تمہاری پرورش کرے۔ ع عدو شود سبب خیر گر خدا خواھد قدرت کا کرشمہ ! عدو لی وعدولہ میں خدا کے کمال تصرف کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور حضرت موسیٰ دونوں کے دشمن سے حضرت موسیٰ کی حفاظت و پرورش کرائی۔ خدا کا دشمن تو وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ خود خدائی کا مدعی ھتا، بھلا وہ اپنے سوا کسی او خدا کو کس طرح گوارا کرسکتا تھا اور حضرت موسیٰ کے ساتھ اس کو جو دشمنی تھی اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ پھر یہی نہیں کہ حضرت موسیٰ نے اپنے اور حضرت موسیٰ دونوں کے دشمن سے حضرت موسیٰ کی پرورش کرائی بلکہ اس کی تدبیر و حکمت کا یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ اس نے فرعون سے اس کے اور اس کی قوم کے سب سے بڑے دشمن کی پرورش کرائی اور فرعون نے خود اپنے ہی ہاتھوں اس خطرے کا سامان کیا جس سے بچنے کے لئے اس نے نہ جانے کیا کیا جتن کئے ! حضرت موسیٰ پر محبت الٰہی کا پر تو والقیت علیک محبۃ منی یہ وہ خدائی تدبیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنے اور ان کے دونوں کے دشمن کی نگاہوں میں محبوب بنا دینے کے لئے فرمائی۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے تم پر اپنی محبت کا ایک پر تو ڈال دیا۔ بچہ تو یوں ہی موہنا ہوتا ہے، ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر اس کو دیکھ کر شففقت پیدا ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ تو، تورات کی روایات سے ثابت ہے کہ نہایت خوب صورت بھی تھے۔ پھر مزید لطف خداوندی یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا پر تو ڈال دیا۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اس بچے کے موہنے پن کا جس پر محبت الٰہی کا پر تو ہو ! ایک ایسا موہنا بچہ جب وہ سرکنڈوں کی ایک ٹوکری میں، دریا کی موجوں کا پھینکا ہوا، یکہ و تنہا، معصومیت و دل آویزی کی مورت بنا ہوا پڑا ہو تو آخر کس کا دل اس کو دیکھ کر تڑپ نہیں 1۔ ملاحظہ ہو خروج 4 : 2۔ عبرانیوں۔ 23-11 اعمال 20-7 جائے گا چ فرعون آخر فرعون ہی تھا، کوئی پتھر تو نہیں تھا ! چناچہ یوں ہوا کہ فرعن اور اس کی بیوی نیل کے کنارے سیر کو نکلے، ان کی نظر ٹو کرے پر پڑگئی۔ اس میں انہوں نے ایک چاند سے بچے کو دیکھا سمجھ گئے کہ یہ کسی اسرائیلی کا بچہ ہے جس کو غالباً اس کے ماں باپ نے، اس کے قتل کے اندیشہ سے، تن بہ تقدیر، دریا کی موجوں کے حوالہ کردیا ہے کہ شاید اسی راہ سے اس کے بچائو کی کوئی شکل پیدا ہوجائے۔ بچہ کو دیکھ کر ان کے دل میں رحم پیدا ہوگیا۔ اس رحم میں بھی زیادہ دخل فرعون کی بیوی کو تھا۔ عورتیں یوں بھی فطرۃ بچوں کے معاملے میں بڑی رحمدل ہوتی ہیں اور فرعون کی یہ بیوی تو، جیسا کہ سورة تحریم کی آیت 11 سے ثابت ہے نہایت خدا ترس اور رحم دل بی بی تھیں۔ بہرحال اس خدائی تدبیر سے دریائے نیل میں پھینکے ہوئے حضرت موسیٰ اسی فرعون کے محل میں پرورش کے لئے پہنچ گئے، جس کے ڈر سے ان کی ماں نے اپنی آغوش سے جدا کر کے ان کو دریا کی آغوش میں دیا تھا ! ولتصنع علی عبنی یہاں حرف عطف بربنائے قرینہ دلیل ہے کہ اس کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہم نے تم پر اپنی محبت کا پر تو اس لئے ڈالا کہ تم سے تمہارے دشمن محبت کریں اور تمہاری پرورش خاص ہماری نگرانی میں ہماری آنکھوں سکے سامنے ہو ظاہر ہے کہ اللہ کی محبت کا یہی پر تو ہی تھا جو حضرت موسیٰ کا محافظ بنا اور اس محافظ نے اس طرح ان کو محفوظ کردیا کہ ان کو نہ صرف یہ کہ اپنے جانی دشمن سے کوئی خطرہ نہیں رہا بلکہ ہو دشمن ان کا گرویدہ بن گیا۔ اسی محافظ محبت کو اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی آکھ سے تعبیر فرمایا ہے۔ گویا اپنی محبت کا پر تو ڈال کر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر اپنی حفاظت کا پہرہ بٹھا دیا۔