تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 83
وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى﴿83﴾
- وَمَآاور کیا (چیز)
- اَعْجَلَكَتجھے جلد لائی
- عَنْ قَوْمِكَاپنی قوم سے
- يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اے موسیٰ یہ تم کو، اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی آنے پر کس نے ابھارا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 84-83
عربیت کا ایک اسلوب
اعجلک کے بعد من اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو چھوڑ کر آنے کے مفہوم میں ہو۔ اس لئے کہ عن اعجلک کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور ہم عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جب فعل اور اس کے صلہ میں مناسبت ظاہری نہ ہو تو وہاں وہ فعل کسی ایسے فعل پر متضمن ہوتا ہے جو اس صلہ سے مناسبت رکھتا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ موسیٰ تمہیں اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی چلے آنے پر کس چیز نے ابھارا ؟
تورات کے حصول کے لئے حضرت موسیٰ کی عجلت
یہ اس موقع کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو طور کے اسی مقام پر جہاں ان کو نبوت عطا ہوئی تھی۔ تورات دینے کے لئے بلایا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تیس دن کی مدت مقرر کی تھی لیکن حضرت موسیٰ فرط شوق میں قوم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری حضرت ہارون کے سپرد کر کے وقت سے کچھ پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ تورات میں اس کا ذکر ہے لیکن اس میں کسی مدت یا حضرت موسیٰ کی کسی عجلت کا ذکر نہیں ہے۔
”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ پہاڑ پر میرے پاس آ اور وہیں ٹھہرا رہ اور میں تجھے پتھر کی لوحیں اور شریعت اور احکام جو میں نے لکھے ہیں دوں گا تاکہ تو انہیں سکھائے اور موسیٰ اور اس کا خادم یشوع اٹھے اور موسیٰ خدا کے پہاڑ کے اوپر گیا اور بزرگوں سے کہہ گا کہ جب تک ہم لوٹ کر تمہایر پاس نہ آجائیں تم ہمارے لئے یہیں ٹھہرے رہو اور دیکھو ہارون اور حور تمہایر ساتھ ہیں جس کسی کا کوئی مقدمہ ہو وہ ان کے پاس جائے۔“ خروج باب 24 :14-12
اعراف میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔
ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشرفتممیقات ربہ اربعین لیلۃ وقال موسیٰ لاخیہ ھرون اخلفنی فے قومی واصلح ولاتتبع سبیل المفسدین (142۔ الاعراف)
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصالح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کی روش کی پیروی نہ کرنا۔
حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ اے میرے رب ! میری قوم کے لوگ بھی بس میرے پیچھے ہی ہیں اور میں وقت موعود سے ذرا پہلے تیری خوشنودی کے لئے چلا آیا ہوں۔
حضرت موسیٰ کی یہ عجلت، جیسا کہ ان کے ارشاد سے واضح ہے، محض فرط شوق کا نتیجہ اور خدا کی رضا طلبی کے لئے تھی۔ اس پہلو سے یہ کوئی برائی نہیں بلکہ محبت الٰہی کا تقاضا تھی لیکن یہی عجلت ان کے لئے ایک شدید آزمائش اور ان کی قوم کے لئے ایک سخت فتنہ بن گئی۔ ان کی قوم کے اندر جو اشرار و مفسدین تھے انہوں نے ان کی اس غیبت سے فائدہ اٹھا کر قوم کو گو سالہ پرستی میں مبتلا کردیا اور حضرت ہارون اپنی اتنہائی کوشش کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے حضرت موسیٰ کی قوم کا مزاج اس وقت تک سخت منفعل تھا۔ سورة اعراف میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے کہ دریا پار کرنے کے معاً بعد جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے حضرت موسیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے بھی اسی طرح کا ایک بت بنا دیں جس طرح کے بت ان قوموں کے پاس ہیں۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے طور پر جانے سے کچھ ہی پہلے کا ہے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے ان مفسدین کو ڈانٹ بھی باتئی تھی۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے مفسدین سے بھی واقف رہے ہوں گی اور اس امر کا بھی سب سے بہتر وہی اندازہ کرسکتے تھے کہ ان بگڑے ہوئے لوگوں کو حضرت ہارون کس حد تک کنٹرول میں رکھ سکیں گ۔ ایسے حالات کے اندر ان کی چند روز کی غیر حاضری بھی قوم کے لئے آزمائش بن سکتی تھی لیکن غلبہ شوق میں وہ ان پہلوئوں کا کما حقہ اندازہ نہ فرما سکے اور اس کا نتیجہ نہایت خطرناک خطرناک شکل میں سامنے آیا۔
یہ بات ہم جگہ جگہ ظاہرظاہر کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام سے اگر کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ حق اور خدا کی رضا طلبی کی راہ میں حد مطلوب سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز فی نفسہ کوئی برائی نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ میزان حق ہوتے ہیں اور ان کا ہر قول و فعل دوسروں کے لئے نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ انکی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ کی اس عجلت پر بھی گرفت ہوئی۔ اس سورة میں، جیسا کہ آپ تمہید میں پڑھ آئے ہیں، ہمارے حضور کو صبر اور انتظار کی تعلیم دی گئ ہے اس وجہ سے اس میں حضرت موسیٰ کی زندگی سے اس واقعہ کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے کہ اقامت دین کی جدوجہ دیک راہ میں صبر اور انتظار ہی کی روش قرین مصلحت الٰہی ہے ورنہ بعض اوقات نیک سے نیک ارادہ کے ساتھ بھی جو عجلت کی جاتی ہے وہ بہتوں کے لئے مزلہ قدم بن جاتی ہے۔