تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 2
مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ﴿2﴾
- مَا يَاْتِيْهِمْان کے پاس نہیں آتی
- مِّنْ ذِكْرٍکوئی نصیحت
- مِّنْ رَّبِّهِمْان کے رب سے
- مُّحْدَثٍنئی
- اِلَّامگر
- اسْتَمَعُوْهُوہ اسے سنتے ہیں
- وَهُمْاور وہ
- يَلْعَبُوْنَکھیلتے ہیں (کھیلتے ہوئے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے رب کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی ان کے پاس آتی ہے یہ اس کو بس مذاق کرتے ہوئے سنتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تازہ بتازہ یاد دہانی
فرمایا کہ ان کے اندر غفلت اور لا ابلی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت بھی ہے کہ ان کو بار بار گوناگوں پہلوئوں اور اسلوبوں سے یاد دہانی کی جا رہی ہے لیکن جو تازہ تذکیر و تنبیہ بھی ان کے پاس آتی ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے اس کو ہنسی مسخری میں اڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورة طہ میں فرمایا ہے۔ آیت 130 (اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا اور اس میں اپنی وعید گونگاوں پہلوئوں سے واضح کردی کہ وہ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر ہماری یاد دہانی کو تازہ کر دے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے صرف ایک بار ان کو سنا دینے ہی پریس نہیں کیا بلکہ ان کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے تازہ بتازہ یاد دہانیاں بھیجیں لیکن وہ متنبہ ہونے اور ان کی قدر کرنے کے بجائے ہر تذکیر کو اپنے مذاق کا موضوع بنا لیتے ہیں۔