Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 32

  1. وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ﴿32﴾

    1. وَجَعَلْنَااور ہم نے بنایا
    2. السَّمَآءَآسمان
    3. سَقْفًاایک چھت
    4. مَّحْفُوْظًامحفوظ
    5. وَّهُمْاور وہ
    6. عَنْسے
    7. اٰيٰتِهَااس کی نشانیاں
    8. مُعْرِضُوْنَروگردانی کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آسمان اور اس کی نشانیوں کی اشارہ زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ آخر یہ نشانیاں طلب کرنے والے آسمان کی اس ناپید کنارسقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت و پہنائی کی کوئی حد نہیں لیکن اس کے باوجود اس کے اندر کسی معمولی سے معملوی خلل کی بھی کوئی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ چھت کب بنی لیکن اس امتداد زمانہ کے باوجود نہ اس پر کوئی کہنگی طاری ہوئی، نہ اس میں کوئی نقص و خلل پیدا ہوا۔ ہر قسم کے دراڑا اور شگاف سے بالکل محفوظ یہ قائم و دائم ہے۔ یہی مضمون سورة ق میں یوں بیان ہوا ہے۔ افلم ینظروآ الی السمآء فوقھم کیف بینھا وزینھا ومالھا من فروج (ق 6) کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف توجہ نہیں کی ؟ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو زینت دی اور کہیں اس میں دراڑ اور کوئی شگاف نہیں ! سورة ملک میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ الذی خلق سبع سموت طباقاً ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر ھل تری من فطور ثم ارجع البصر کرتین ینقلب الیک البصر خاسئاً وھو حسیر (ملک 4-3) وہ ذات جس نے پیدا کئے سات آسمان تہ بہ تہ تم خدائے رحمان کی اس صنعت گری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ پس نگاہ دوڑائو کیا تم کوئی خلل دیکھتے ہو ؟ پھر دوباہر نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ، ناکام اور تھک ہار کر واپس آجائے گی لیکن وہ کوئی خلل نہ پاسکے گی ! اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو 99 بنی اسرائیل اور 33-27 نازعات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ بعض لوگوں نے محفوظ سے یہ مراد لیا ہے کہ آسمان شیطان کی در اندازی سے محفوظ ہے۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن اس کا ایک خاص محل ہے۔ یہاں یہ چیز زیر بحث نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر خدا نے چاہا تو سورة ملک کی تفسیر میں ہم بحث کریں گے۔ وھم عن ایتھا معرضون میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان کی تو کوئی کمی نہیں ہے، اس کائنات کی ہر چیز نشانی ہے لیکن یہ نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو ایسے اندھوں کا کیا علاج !