Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 41

  1. وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿41﴾

    1. وَاور
    2. لَقَدِ اسْتُهْزِئَالبتہ مذاق اڑائی گئی
    3. بِرُسُلٍرسولوں کی
    4. مِّنْ قَبْلِكَآپ سے پہلے
    5. فَحَاقَآگھیرا (پکڑ لیا)
    6. بِالَّذِيْنَان کو جنہوں نے
    7. سَخِرُوْامذاق اڑایا
    8. مِنْهُمْان میں سے
    9. مَّاجو
    10. كَانُوْاتھے
    11. بِهٖاس کے ساتھ (کا)
    12. يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لای جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آنضحتر صلعم کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ یہ آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ ہے کہ تم سے پہلے اللہ کے جو رسول گزرے ہیں ان کے انذار کا بھی اس طرح مذاق اڑایا گیا جس طرح تمہارے انذار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس عذاب کا مذاق اڑایا گیا اس نے ان لوگوں کو آگھیرا جنہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ مطلب یہ ہے کہ وہی روز بد تمہارے ان مذاق اڑانے والوں کے سامنے بھی آنے والا ہے۔ سخروامنھم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان قوموں پر جو فیصلہ کن عذات اتا ہے اس میں صرف وہی لوگ ہلاک ہوتے ہیں جو اپنی تکذیب پر اڑے رہ جاتے ہیں اس سنت الٰہی کی طرف دوسرے مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں۔