تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 52
اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ﴿52﴾
- اِذْ قَالَجب اس نے کہا
- لِاَبِيْهِاپنے باپ سے
- وَقَوْمِهٖاور اپنی قوم
- مَا هٰذِهِکیا ہیں یہ
- التَّمَاثِيْلُمورتیاں
- الَّتِيْٓجو کہ
- اَنْتُمْتم
- لَهَاان کے لیے
- عٰكِفُوْنَجمے بیٹھے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن پر تم دھرنا دیئے بیٹھے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قوم سے اصنا مکہ بارے میں بحث
اب یہ ان کی بالکل ابتدائی سرگزشت حیات کا ایک واقعہ بیان ہو رہا ہے جس سے ان کی جرأت و فتوت بھی واضح ہو رہی ہے اور وہ ہدایت و معرفت بھی جو اللہ تعالیٰ نے عین عنفوان شباب میں ان کو بخشی۔ ان کی ولادت اگرچہ ایک بت پرست قوم، ایک مبتلائے شرک خاندان اور ایک مشرک اور بت گر باپ کے گھر میں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو توحید کا وہ نور عطا فرمایا جس کی روشنی سے دنیا آج تک منور ہے قیامت تک منور رہے گی۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو دعوت دی کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم لوگ دھرنا دیئے بھے ا ہو ! اس فقرے میں ان بتوں کے لئے جو استخفاف و تحقیر ہے اور لفظ عکفون میں باپ اور قوم کی بلاوت اور ان کے جمود و جو طنز ہے وہ عربی زبان کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔ اس عمر میں اور ایسے ماحول کے اندر یہ نعرہ حق وہی بلند کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ توفیق خاص سے نوازے اور جس کے ایمان کی سطوت و جلالت ہر خوف اور ہر طمع سے بالکل بےپروا و بےنیاز ہو۔