Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 97

  1. وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿97﴾

    1. وَاقْتَرَبَاور قریب آجائے گا
    2. الْوَعْدُوعدہ
    3. الْحَقُّسچا
    4. فَاِذَاتو اچانک
    5. هِىَوہ
    6. شَاخِصَةٌاوپر لگی (پھٹی) رہ جائیں گی
    7. اَبْصَارُآنکھیں
    8. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا (کافر)
    9. يٰوَيْلَنَاہائے ہماری شامت
    10. قَدْ كُنَّاتحقیق ہم تھے
    11. فِيْ غَفْلَةٍغفلت میں
    12. مِّنْ ھٰذَااس سے
    13. بَلْ كُنَّابلکہ ہم تھے
    14. ظٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور قیامت کا شدنی وعدہ قریب آگیا ہے تو ناگہاں ان لوگوں کی نگاہیں ٹنگی رہ جائیں گی جنہوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ وہ پکاریں گے، ہائے ہماری بدبختی ! ہم اس سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت سر پر کھڑی ہے یعنی یہ جس وعدہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھ رہے ہیں وہ بہت دور نہیں بلکہ اس کے ظہور کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ سورة معارج میں فرمایا ہے انھم یرونہ بعیداً ونرئہ قریباً (وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں لیکن ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں) انسان ہر چیز کو اپنے چھوٹے پیمانوں سے ناپتا ہے اس وجہ سے اسے قیامت بہت دور معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ خدائی دنوں کے اعتبار سے وہ بالکل سر پر کھڑی ہے۔ یہی مضمون اس سورة کی پہلی آیت میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے بعض دوسرے پہلو بھی واضح کئے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ فاذا ہی شاخصۃ ابصار الذین کفروا یعنی وہ اچانک آدھمکے گی اور اس کا منظر ایسا ہولناک ہوگا کہ آج جو لوگ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطلابہ کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں ان کی آنکھیں ٹنگی رہ جائیں گی۔ یہ خوف اور دہشت زدگی کی تصویر ہے۔ انسان جب کوئی ہولناک چیز اچانک دیکھتا ہے تو ہکا بکا ہو کر اس کو دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ قیامت کے معاملہ میں اصل حجاب یویلنا قدکنا فی غفلۃ من ھذا بل کنا ظلمین یہ اس وقت کی ان کی زبان حال کی تعبیر ہے اس وجہ سے یہاں قالوکا حذف کردیا۔ فرمایا کہ وہ اس وقت خود بول اٹھیں گے کہ بیشک ہم خود ایک شدنی حقیت سے غفلت میں پڑے رہے۔ بل کنا ظلمین یعنی یہ بات بھی نہیں ہے کہ ہم کو کوئی اس غفلت سے بیدار کرنے والا نہ آیا ہو۔ اللہ نے بیدار کرنے والے بھی بھیجے جنہوں نے ہمیں جگانے کے لئے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن ہم خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے کہ ان کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے رہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ قیامت کے معاملہ میں اصل حجاب یہ نہیں ہے کہ اس کی کوئی مسکت دلیل نہیں ہے بلکہ اصلی حجاب انسان کی غفلت ہے۔ وہ ایک حقیقت کو، اس کے دلائل کی وضاحت کے باوجود، ماننا نہیں چاہتا ہے اس لئے کہ اس کو ماننا اس کی خاہشوں کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں واحد چیز جو اس کو سہارا دیتی ہے وہ اس کی غفلت ہے۔ وہ غفلت میں پڑا ہوا اس کے لئے کسی اہتمام کو برابر ٹالتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کے سر پر آدھمکے گی۔