Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 10

  1. ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿10﴾

    1. ذٰلِكَ بِمَایہ اس سبب جو
    2. قَدَّمَتْآگے بھیجا
    3. يَدٰكَتیرے ہاتھ
    4. وَاَنَّ اللّٰهَاور یہ کہ اللہ
    5. لَيْسَنہیں
    6. بِظَلَّامٍظلم کرنے والا
    7. لِّلْعَبِيْدِاپنے بندوں پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ یہ ہے تیرے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت اور اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید (10) زبان حال کی شہادت ہم قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جہاں مقصود صورت حال کی تعبیر ہو وہاں بالعموم قیل اور یقال وغیرہ حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی زبان حال خود ان پر گواہی دے گی کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوٹی ہوئی بس بھری فصل کا حاصل ہے جو تمہارے سامنے آیا ہے۔ خدا نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔ جو بوئے گا وہی کاٹے گا وان اللہ لیس بظلام اللعبید اس اسلوب کی وضاحت بھی متعدد جگہ ہوچکی ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لیس بظلام کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ بندوں پر زرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں جو بوئے گا اس کی فصل آخرت میں کاٹے گا۔ اگر اس نے استکبار کی کاشت کی ہے تو استکبار کا حاصل رسوائی ہے، وہ رسوائی کی فصل کاٹے گا اور اگر حق کے خلاف غصہ اور نفرت کی پرورش اس نے کی ہے تو اس کا حاصل جلنے کا عذاب ہے وہ اس سے دوچار ہوگا۔ غرض جو کچھ اس نے کیا ہوگا وہی اللہ تعالیٰ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ سر مواس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی !