Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 32

  1. ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ﴿32﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. وَمَنْاور جو
    3. يُّعَظِّمْتعظیم کرے گا
    4. شَعَآئِرَ اللّٰهِشعائر اللہ
    5. فَاِنَّهَاتو بیشک یہ
    6. مِنْسے
    7. تَقْوَيپرہیزگاری
    8. الْقُلُوْبِجمع قلب (دل)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان امور کا اہتمام رکھو ! اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یاد رکھے کہ یہ چزدل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شعائر کی تعظیم کے لئے اصل شرط یہ ذلک بھی اسی طرح کا ہے جیسا کہ اوپر آیت 30 میں گزرا یعنی اوپر جو باتیں بتائی گئیں ان کو اچھی طرح سن لو اور ان کو گرہ کرو اور مزید برآں یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ نے جو شعائر مقرر فرمائے ہیں ان کی تعظیم کا حق محض ظاہر داری سے ادا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ شعائر، جیسا کہ ہم بقرہ 158 ان الضفا والمردۃ من شعآئر اللہ کے تحت واضح کرچکے ہیں کسی عظیم حقیقت کے نشان اور مظہر کے طور پر مقرر ہوئے ہیں۔ ان سے اصل مقصود انہی حقائق کی تذکیر و تذکر ہے جو ان کے اندر مضمر ہیں اگر ان حقائق کا اہتمام باقی نہ رہ جائے تو محض ظاہری رسم داری سے شعائر کی تعظیم کا حق ادا نہیں ہوتا۔ ان کی صحیح تعظیم کا حق اسی وقت ادا ہوتا ہے جب وہ اثر ان سے اخذ کیا جائے جس کے پیدا کرنے کے لئے وہ مقرر ہوئے ہیں، آگے قربانی سے متعلق، جو ایک عظیم شعیرہ ہے، اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے۔ لن ینال اللہ بعومھا ولادمآوھا ولکن ینالہ التقری منکم 37 اللہ کو تمہاری ان قربانیوں کا نہ گوشت پہنچے گا اور نہ ان کا خون بلکہ صرف تمہارا تقویٰ پہنچے گا۔ قربانی کے متعلق معلوم ہے کہ یہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد گار ہے۔ انہوں نے اپنے محبوب فرزند … حضرت اسماعیل … کی قربانی کر کے اسلام کی اس حقیقت کا اظہار فرمایا کہ مسلم کو ہر وقت اپنی عزیز سے عزیز شے اپنے رب کی خاطرقربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اگر قربانی کی یہ حقیقت مستحضر نہ رہے اور آدمی ایک جانور کی گردن پر چھری چلا دے تو گو فی الظاہر اس نے قربانی کردی لیکن فی الحقیقت وہ اس عظیم شعیرہ کی روح سے بیخبر رہا اور آنحالیکہ خدا تک رسائی حاصل کرنے والی چیز وہ روح ہی ہے نہ کہ اس کی قربانی کا گوشت یا خون