Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 35

  1. الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿35﴾

    1. الَّذِيْنَوہ جو
    2. اِذَاجب
    3. ذُكِرَ اللّٰهُاللہ کا نام لیا جائے
    4. وَجِلَتْڈر جاتے ہیں
    5. قُلُوْبُهُمْان کے دل
    6. وَالصّٰبِرِيْنَاور صبر کرنے والے
    7. عَلٰيپر
    8. مَآ اَصَابَهُمْجو انہیں پہنچے
    9. وَالْمُقِيْمِياور قائم کرنے والے
    10. الصَّلٰوةِنماز
    11. وَمِمَّااور اس سے جو
    12. رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
    13. يُنْفِقُوْنَوہ خرچ کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا ہے ان کے دل دہل جاتے، ان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنے والے، نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ مخبتین کی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ متکبرین کی طرح، جن کا ذکر اسی سورة میں آگے آیت 72 میں آئے گا، ناک بھوں نہیں چڑھاتے بلکہ ان کے دل خشیت الٰہی سے دہل جاتے ہیں۔ والصبرین علی مآ اصابھم اور جن کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کی راہ میں ہر مصیبت کو پوری ہمت کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں، ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جن کا حال آیت ومن الناس من بعبد اللہ علی حرف کے تحت بیان ہوا کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی چوٹ کھانے اور کوئی جو کھم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ والمقیمی الصلوۃ یہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں گفتگو کرچکے ہیں۔ اس کا مفہمو صرف یہ نہیں ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ برابر نماز کا نہایت اہتمام رکھنے والے ہیں۔ رمما رزقھم ینفقون اور خدا نے جو کچھ ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس اسلوب میں انفاق کی تسہیل اور اس کی ترغیب کا جو پہلو ہے اس پر بھی نگاہ رکھے اور نماز اور انفاق میں میں جو رشتہ ہے اس کو بھی نظر سے اوجھل نہ ہونے دیجیے۔ دین کی حکمت سمجھنے کے لئے ان اجزاء کے باہمی تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔