Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 37

  1. لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ﴿37﴾

    1. لَنْ يَّنَالَہرگز نہیں پہنچتا
    2. اللّٰهَاللہ کو
    3. لُحُوْمُهَاان کا گوشت
    4. وَلَااور نہ
    5. دِمَآؤُهَاان کا خون
    6. وَلٰكِنْاور لیکن (بلکہ)
    7. يَّنَالُهُاس کو پہنچتا ہے
    8. التَّقْوٰيتقویٰ
    9. مِنْكُمْتم سے
    10. كَذٰلِكَاسی طرح
    11. سَخَّرَهَاہم نے انہیں مسخر کیا
    12. لَكُمْتمہارے لیے
    13. لِتُكَبِّرُواتاکہ تم بڑائی سے یاد کرو
    14. اللّٰهَاللہ
    15. عَلٰيپر
    16. مَا هَدٰىكُمْجو اس نے ہدایت دی تمہیں
    17. وَبَشِّرِاور خوشخبری دیں
    18. الْمُحْسِنِيْنَنیکی کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ اس کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت بخشی پر اس کی تعظیم بجا لائو اور خوب کاروں کو خوش خبری سنا دو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل حقیقت کی یاد دہانی مطلب یہ ہے کہ خدا قربانیوں کے گوشت یا خون سے محظوظ نہیں ہوتا، جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس تقویٰ اور اس اسلام و اخبات سے خوشنود ہوتا ہے جو ان قربانیوں سے ان کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ قربانیاں پیش کرتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ کی یہ روح پیدا کرو۔ اگر یہ چیز نہ پیدا ہوئی تو یہ محض ایک جانور کا خون بہا دینا ہوا، اس کا حاصل کچھ نہیں۔ کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدلکم یہ اسی مضمون کا دور سے لفظوں میں اعادہ ہے جو اوپر کذلک سخرنھا الایہ میں گزرا۔ البتہ اس میں اس شکر کا طریقہ بتا دیا کہ یہ خدا کی تکبیر وتہلیل کی صورت میں ہو یعنی اس نذرانہ کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرتے ہوئے صرف خدا ہی کی عظمت وکبریائی کا اعتراف وہ اعلان کیا جائے، کسی غیر خدا کو اس میں ساجھی نہ بنایا جائے۔ چناچہ اسی حکم کی تعمیل میں ان چوپایوں کو قبلہ رو کر کے ان پر تکبر پڑھی جاتی اور منک ولک کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ مزید برآں اس آیت میں اس شکر کے اصل محرک کا بھی پتہ دے دیا ہے کہ یہ شکر اس بات کا ہے کہ خدا نے تمہیں ہدایت بخشی یعنی اس اسلام و اخبات کی ہدایت بخشی جس کا اظہار حضرت ابراہیم نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی کر کے کیا۔ وبشر المحسنین محسن کا مفہوم ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ اس سے مراد وہ خوب کار لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے ہر حکم کی تعمیل اس کو حاضر و ناظر جان کر اس طرح انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح اس کو انجام دینا چاہئے۔ یہاں بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو لوگ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی قربانی پیش کریں گے وہی لوگ دراصل خوب کار ہیں۔ ایسے خوب کاروں کو خدا کی خوشنودی اور اس کی جنت کی خوش خبری پہنچا دو !