تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 39
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ﴿39﴾
- اُذِنَاذن دیا گیا
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کو
- يُقٰتَلُوْنَجن سے لڑتے ہیں
- بِاَنَّهُمْکیونکہ وہ
- ظُلِمُوْاان پر ظلم کیا گیا
- وَاِنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ
- عَلٰي نَصْرِهِمْان کی مدد پر
- لَقَدِيْرُضرور قدرت رکھتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جن سے جنگ کی جائے ان کو جنگ کرنے کی اجازت دی گئی بوجہ اس کے کہ ان ضر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مسلمانوں کو اپنی مدافعت میں جہاد کی اجازت
اذن کا متعلق یہاں بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یعنی اب ان مسلمانوں کو جن سے جنگ کی جائے جنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس وقت تک چونکہ مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ تنظیمی ہئیت نہیں تھی اس وجہ سے ہر قسم کے مظالم کے ہدف رہنے کے باوجود ان کو جنگ کی اجازت نہیں د گئی بلکہ صبر کی ہدایت فرمائی گئی۔ اس لئے کہ منتشر افراد کی جنگ فساد کو مٹا کر حق و عدل قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اور اسلام میں جنگ صرف حق و عدل کے قیام ہی کے لئے جائز ہے لیکن مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد حالات تبدیل ہوگئے اس وجہ سے ان کو اپنی مدافعت میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت دے دی گئی۔ علاوہ ازیں یہ اجازت اس پہلو سے بھی ضروری تھی کہ معاملہ حرم اور حدود حرم کا تھا۔ مسلمان حرم کے معاملے میں کوئی اقدام اس وقت تک نہیں کرسکتے تھے جب تک اللہ و رسول کی طرف سے ان کو اس کے لئے اجازت نہ ملے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں صرف مدافعانہ جنگ کی اجازت مذکور ہے اس لئے کہ اس مرحلے تک مسلمان ابھی اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے۔ رہا یہ سوال کہ مسملانوں کے لئے جارحانہ جنگ بھی جائز ہے یا نہیں تو اس سوال کے جواب کے لئے ہماری تفسیر سورة برأت کا تدبر سے مطالعہ فرمایئے۔
بانھم ظلموا یہ اس اجازت کے حق میں ایک مزید وجہ کا حوالہ ہے۔ یعنی اول تو اپنا دفاع ہر شخص اور ہر جماعت کا حق ہے ہی، پھر مزید برٓں یہ بات بھی ہے کہ ان مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے۔ اس ظلم کی تفصیل آگے ولای آیت میں آرہی ہے۔
وان اللہ علی نصرھم لقدیر یہ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا وعدہ مدافعت کی توثیق بھی ہے اور کفار قریش کے لئے ایک قسم کی تہدید بھی یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان مٹھی بھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے اور کوئی ان کی مدد کر کے ان کو کیا تقویت پہنچا سکتا ہے۔ اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہے اور جب وہ ان کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہا ہے تو دنیا کی کوئی قوت بھی ان کو شکست نہیں دے سکتی۔