Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 41

  1. اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿41﴾

    1. اَلَّذِيْنَوہ لوگ جو
    2. اِنْاگر
    3. مَّكَّنّٰهُمْہم دسترس دیں انہیں
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. اَقَامُواوہ قائم کریں
    6. الصَّلٰوةَنماز
    7. وَاٰتَوُااور ادا کریں
    8. الزَّكٰوةَزکوۃ
    9. وَاَمَرُوْااور حکم دیں
    10. بِالْمَعْرُوْفِنیک کاموں کا
    11. وَنَهَوْااور وہ روکیں
    12. عَنِ الْمُنْكَرِبرائی سے
    13. وَلِلّٰهِاور اللہ کیلئے
    14. عَاقِبَةُانجام کار
    15. الْاُمُوْرِتمام کام
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکواۃ ادا کریں گے۔ معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے اور انجام کار کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الارض سے مراد سر زمین حرم الارض سے مراد جس طرح رعد 41 اور انبیاء 44 میں ارض مکہ ہے اسی طرح قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بھی اس سے مراد ارض مکہ ہے اس لئے کہ یہاں جس جہاد کی اجازت دی گئی ہے اصلاً اس کا تعلق ارض حرم ہی کی آزادی و تطہیر سے ہے۔ فرمایا کہ اس کے موجودہ غاصب اجارہ داروں نے تو اس حرم کے وہ تمام مقاصد برباد کردیئے ہیں جس کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے یہاں اپنی ذریت کو بسایا تھا البتہ اگر ہم اپنے ان بندوں کو اس سر زمین میں، اپنی تائید و نصرت سے، اقتدار بخشیں گے تو یہ اس کے تمام مقاصد کو از سر نو بروئے کار لائیں گے۔ یہ نماز کا اہتمام کریں گے۔ زکواۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ بقرہ کی آیات 128-124 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ بعینیہ یہی مقاصد ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین کو حضرات ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کا مرکز بنایا تھا اور آیت کا اسلوب باتن خود اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ قریش نے یہ تمام مقاصد برباد کردیئے ہیں۔ مسلمانوں کے اقتدار کے ثمرات دنیا میں مسلمانوں کے اقتدار و تمکن کی پہلی بشارت یہی ہے جس کا آغاز حرم کی سر زمین سے ہوتا ہے، جس کی نسبت ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اس کی حیثیت ملت کے قلب کی ہے۔ اسی کے صلاح و فساد پر تمام ملت کے صلاح و فساد کا انحصار ہے۔ بعینیہ یہی فریضہ مسلمانوں پر ہر اس سر زمین کے لئے عائد ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ کو اقتدار بخشے۔ اگر وہ یہ فریضہ ادا نہ کریں تو خدا کے نزدیک جس طرح دوسروں کا تسلط ناجائز ہے اسی طرح ان نام نہاد مسلمانوں کا تسلط بھی ناجائز ہے۔ نماز اور زکوۃ تمام دین کے لئے بمنزلہ شیرازہ ہیں نماز اور زکوۃ جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضح کرچکے ہیں تمام شریعت کے لئے بمنزلہ شیرازہ ہیں۔ اگر ان کا ذکر ہوگیا تو گویا پوری شریعت کا ذکر ہوگیا۔ مصروف پر عمل کی آزادی کا مفہوم معروف و منکر پر بھی تفسیر سورة بقرہ میں تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ بعض سادہ لوح یہ سوال کرتے ہیں کہ جب قرآن نے معروف پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر گروہ اور ہر قوم کے لوگ اپنے اپنے معروف پر عمل کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ زندگی کے جن شعبوں میں خود خدا اور رسول نے معروف و منکر کو معین کردیا ہے ان میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا کے بتائے ہوئے معروف کو منکریا اس کے منکر کو معروف بنائے۔ البتہ شریعت کے حدود کے اندر رہتے ہئے ہر قوم و ملک کے لوگ اپنے معروف پر عمل کے لئے آزاد ہیں۔ مسلمانوں کو باشرت وللہ عاقبۃ الامور یہ مسلمانوں کو بشارت ہے کہ ابھی آغاز کار ہے اس وجہ سے حالات مشتبہ اور انجام پردے میں ہے۔ ممکن ہے تم کو بھی اور دوسروں کو بھی یہ تمکن کی بشارت مستن بعد معلوم ہو رہی ہو لیکن انجام کار اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے کہ کر کے رہے گا۔