Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 58

  1. وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿58﴾

    1. وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْااور جن لوگوں نے ہجرت کی
    2. فِيْمیں
    3. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    4. ثُمَّپھر
    5. قُتِلُوْٓامارے گئے
    6. اَوْیا
    7. مَاتُوْاوہ مرگئے
    8. لَيَرْزُقَنَّهُمُالبتہ وہ انہیں رزق دے گا
    9. اللّٰهُاللہ
    10. رِزْقًارزق
    11. حَسَنًااچھا
    12. وَاِنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ
    13. لَهُوَالبتہ وہ
    14. خَيْرُسب سے بہتر
    15. الرّٰزِقِيْنَرزق دینے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا مر گئے تو اللہ انکو اپنے رزق حسن سے نوازے گا۔ اور بیشک اللہ ہی ہے جو بہترین رزق دینے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون …… آیات 76-58 آگے ان مسلمانوں کی پہلے دلداری فرمائی ہے ج و اس پر محن دور میں، اعدائے حق کی ستم رانیوں سے تنگ آ کر اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے مختلف علاقوں کو ہجرت کر رہے تھے۔ ان کو اپنی صفات کا حالہ دے کر اطمینان دلایا ہے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے جس طرح مایوسی کے بعد رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور زمین کو جل تھل کردیتی ہیں اسی طرح تمہارے لئے بھی رحمت کی گھٹائیں برسیں گی اور تم نہال ہو جائو گے۔ تمہارے اعداد کو خدا جو مہلت دے رہا ہے تو اس لئے دے رہا ہے کہ خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا لیکن اس مہلت کی ایک حد ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو اس کا انجام دیکھیں گے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارے یہ مخالفین جس ڈگر پر چلتے آئے ہیں اسی پر چلتے رہیں گے تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان کو زیادہ منہ نہ لاگئو۔ جلد وہ دن آنے والا ہے جب خدا ان کے معاملہ کا فیصلہ کرے گا۔ اس دن ان کے یہ معبود کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کے خلاف کچھ سنتے ہی ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ ان کے تن بدن میں آگ لگتی ہے تو لگے تم ان کو صاف صاف سنا دو کہ تمہارے یہ معبود سب مل کر بھی ایک مکھی پید اکر سکنے پر قادر نہیں ہیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس سے اس چیز کو واپس لینے پر قادر نہیں ہیں۔ ان احمقوں کو یہ بھی سمجھا دو کہ فرشتوں کی حیثیت خدا کی بیٹیوں یا اس کے شریکوں کی نہیں بلکہ اس کے بندوں کی ہے۔ وہ ان کے اندر سے بھی اسی طرح اپنے پیغامبر منتخب کرتا ہے جس طرح انسانوں میں سے کرتا ہے۔ وہ ہر وقت خدا کے احاطہ میں ہیں۔ معاملات کا مرجع اور ان کا فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔ راہ ہجرت میں اول قدم بھی منزل کے حکم میں ہے اب یہ اسی اوپر والی بشارت پر، جو اہل ایمان کو دی گی ہے، عطف کر کے خاص طور پر ان مظلوم مسلمانوں کو بشارت دی گی ہے جو کفار قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر، اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے دارالہجرت میں پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیئے گئے یا ان کو موت آگی تو ان کو شہادت کا درجہ نصیب ہوگا اور اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا۔ آل عمران آیت 169 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ خدا کی راہ میں مارے جانے والے مرتے نہیں بلکہ زندہ رہتے ہیں اور وہ اپنی برزخی زندگی میں بھی خاص اپنے رب کے خوان نعمت سے رزق پاتے ہیں۔ بل احیآء عندربھم یرزقون راہ ہجرت میں طبعی موت بھی شہادت کا درجہ رکھتی ہے یہی بشارت یہاں ان لوگوں کو بھی دی گئی جو ہجرت کے ارادے سے نکلیں اور ان کو موت آجائے اگرچہ ان کو قتل نہ کیا گیا ہو۔ گویا اس راہ میں قتل ہونا ہی شہادت نہیں ہے بلکہ طبعی موت بھی شہادت ہی کے حکم میں ہے۔ رزق یہاں، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، خدا کے بےپایاں انعامات کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اس کو محدود مفہم میں نہیں لینا چاہئے۔ وان اللہ لھو خیر الرزاقین میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا جب خیر الرزقین ہے تو کون اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیا رزق دے گا جو اس کی خاطر اپنا گھر در سب کچھ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوں گے !