Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 71

  1. وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ﴿71﴾

    1. وَيَعْبُدُوْنَاور وہ بندگی کرتے ہیں
    2. مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    3. مَاجو
    4. لَمْ يُنَزِّلْنہیں اتاری اس نے
    5. بِهٖاس کی
    6. سُلْطٰنًاکوئی سند
    7. وَّمَااور جو۔ جس
    8. لَيْسَنہیں
    9. لَهُمْان کے لیے (انہیں)
    10. بِهٖاس کا
    11. عِلْمٌکوئی علم
    12. وَمَااور نہیں
    13. لِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لیے
    14. مِنْ نَّصِيْرٍکوئی مددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ اللہ کے ماسوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار بننے والا نہیں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک اور غلط فہمی کا ازالہ یہ ایک اور غلط فہمی بھی رفع فرما دی کہ جس دن خدا انصاف کے لئے بیٹھے گا تو اس دن کوئی ان ظالموں کا مددگار نہ بن سکے گا۔ جن چیزوں کو انہوں نے خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے نہ خدا نے ان کے حق میں کوئی پروانہ جاری کیا ہے کہ وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں اور نہ ان کے اپنے ہی پاس ان کے باب میں کوئی علم ہے۔ خدا کے اذن کے بدوں کسی کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ خدا نے اس کو اپنا شریک بنایا ہے اللہ پر افتراء ہے جو ایک جرم عظیم ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی عقلی و فطری دلیل نہیں ہے اس کو معبود بنانا محض ظن کی پیروی و ہے اور ظن علم اور حق کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔