تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 73
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ﴿73﴾
- يٰٓاَيُّهَا النَّاسُاے لوگو !
- ضُرِبَبیان کی جاتی ہے
- مَثَلٌایک مثال
- فَاسْتَمِعُوْاپس تم سنو
- لَهٗاس کو
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ جنہیں
- تَدْعُوْنَتم پکارتے ہو
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- لَنْ يَّخْلُقُوْاہرگز نہ پیدا کرسکیں گے
- ذُبَابًاایک مکھی
- وَّلَوِخواہ
- اجْتَمَعُوْاوہ جمع ہوجائیں
- لَهٗاس کے لیے
- وَاِنْاور اگر
- يَّسْلُبْهُمُان سے چھین لے
- الذُّبَابُمکھی
- شَيْئًاکچھ
- لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُنہ چھڑا سکیں گے اسے
- مِنْهُاس سے
- ضَعُفَکمزور (بودا ہے)
- الطَّالِبُچاہنے والا
- وَالْمَطْلُوْبُاور جس کو چاہا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے لوگو ! ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے تو اس کو توجہ سے سنو ! جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے لئے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتوان !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی جب تم اپنے معبودوں کی بےحقیقیتی کا بیان سن کر ایسے ہی چڑتے ہو تو آذان کی بےبسی کی ایک حقیقت افروز تمثیل سن لو۔ یہ تمہارے سارے دیوی دیوتا، جن کو تم پکارت یہو، اگر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ اس کے لئے سب مل کر اپنا پورا راز در صرف کر ڈالیں۔ اور یہی نہیں کہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ان کی بےبسی کا حیال ہے کہ جو حلوا تم ان کے آگے پیش کرتے ہوا اگر اس میں مکی کو کچھ چھین لے جاتے تو یہ اس کو بھی بھی نہیں بچا سکتے۔ اطلب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں ! !
ضعف الطالب و المطلوب میں نہایت لطیف وبلیغ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کسی کو معبود مانتا ہے تو اس وجہ سے مانتا ہے کہ اس سے اس کے ضعف و ناتوانی کا مداوا ہوتا ہے لیکن ان نادانوں نے اپنا معبود ان کو بتایا ہے جو ان سے بھی بڑھ کر عاجز و بےبس ہیں۔ یہ اپنی خستگی کی داد ان سے چاہتے ہیں جو بےچارے اپنے چہرے سے مکھی بھی ہانگ سکنے پر قادر نہیں ہیں۔