تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 75
اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ﴿75﴾
- اَللّٰهُاللہ
- يَصْطَفِيْچن لیتا ہے
- مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں میں سے
- رُسُلًاپیغام پہنچانے والے
- وَّاور
- مِنَ النَّاسِآدمیوں میں سے
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- سَمِيْعٌسننے والا
- بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ فرشتوں میں سے اپنے پیغامبر چنتا ہے جس طرح انسانوں میں سے چنتا ہے۔ بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرشتوں کی حیثیت
یعنی ان نادانوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر جو ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے، یہ محض ان کی سفاہت اور خدا کی شان سے بیخبر ی کا نتیجہ ہے۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کے شریک وسہیم نہیں ہیں بلکہ اس کے بندے ہیں۔ اگر ان کو کوئی مرتبہ حاصل ہے تو یہ ہے کہ جس طرح وہ انسانوں میں سے خاص خاص بندوں کو اپنا پیغمبر بناتا ہے اسی طرح فرشتوں میں سے اپنے خاص خاص بندوں کو اپنے پیغمبروں کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے۔
ان اللہ سمیع ابصیر سے بیک وقت دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ایک اس طرف کو جو خدا خود سمیع وبصیر ہے، سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک بنائے۔ دوسرا اس طرف کہ جب خدا سمیع وبصیر ہے تو وہ ان فرشتوں کے فرائض کی بھی ہر قدم پر نگرانی کر رہا ہے، مجال نہیں کہ وہ سرمواس کے مقرر کردہ حدود سے متجاوز ہو سکیں۔