تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ﴿20﴾
- وَشَجَرَةًاور درخت
- تَخْرُجُنکلتا ہے
- مِنْسے
- طُوْرِ سَيْنَآءَطور سینا
- تَنْۢبُتُگتا ہے
- بِالدُّهْنِتیل کے ساتھ لیے
- وَصِبْغٍاور سالن
- لِّلْاٰكِلِيْنَکھانے والوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ درخت بھی اگایا جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ روغن اور کھانے والوں کے لئے سالن کے ساتھ اگتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شجرۃ سے مراد زیتون کے درخت ہیں۔ اگرچہ اس کا نام نہیں لای ہے لیکن جو صفات اس کی بیان فرمائی ہیں وہ خود پتہ دے رہی ہیں کہ اس سے مراد زیتون ہی ہے۔ طور سینا اس کی پدیاوار کا خاص علاقہ تھا۔ اس کا روغن اہل عرب میں بہت مقبول تھا اور اہل کتاب کے ہاں تو اس کو صرف غذائی روغن ہی کا نہیں بلکہ ایک قسم کے مذہبی تقدس کا بھی درجہ حاصل تھا۔ صبغ کے معنی سالن کے ہیں۔ یہ مکھن کی طرح ایک لذیذ اور مقوی سالن بھی تھا۔ یہاں اس کی تنکیر اس کی خوبی پر دلیل ہے۔ یعنی صبغ طیب للاثلین کھانے والوں کے لئے ایک اچھا سالن یہ اس کے دوسرے فوائد کے ساتھ اس کی ایک مزید خوبی کا بیان ہے۔