Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 25

  1. اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ﴿25﴾

    1. اِنْ هُوَنہیں وہ۔ یہ
    2. اِلَّامگر
    3. رَجُلٌایک آدمی
    4. بِهٖجس کو
    5. جِنَّةٌجنون
    6. فَتَرَبَّصُوْاسو تم انتظار کرو
    7. بِهٖاس کا
    8. حَتّٰى حِيْنٍایک مدت تک
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جس کو ایک قسم کا جنون ہے۔ تو کچھ دن اس کے باب میں انتظار کرو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رسول پر خلل داغ کا الزام یعنی ان لیڈروں نے اپنے عوام کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی یہ شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے تو اس سے اس کے رعب میں نہ آئو۔ یہ محض ایک قسم کا خلل دماغ ہے جس کے سبب سے اس کو ایک قسم کا وسوسہ لاحق ہوتا ہے جس کو یہ آسمانی وحی سمجھ بیٹھتا ہے۔ فتربصوا بہ حتی حین یعنی اس شخص کی ان باتوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ مستقبل کے جس عذاب سے تم کو ڈرا رہا ہے اس سے کسی اندیشہ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ سب اس کے وساوس ہیں۔ بہت جلد یہ ہوا میں اڑ جائیں گے۔ بالکل اسی قسم کی بات قریش کے لیڈروں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہی جس کا حوالہ سورة طور میں دیا گیا ہے۔ ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون 30 (کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے لئے ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں) قریش کا مطلب یہ تھا کہ کوئی ان کے ساحرانہ کلام سے محسور ہو کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ ان کی باتوں کی کوئی بنیاد ہے اور اب مستقبل کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے یہ محض شاعرانہ خیال آرائی اور چند روز کی گرما گرمی ہے۔ بہت جلد یہ ختم ہوجائے گی۔ جس طرح ہمارے بہت سے شاعر اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اسی طرح ایک دن یہ بھی اڑ جائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ وقت کے لیڈر جب کسی شخص کے بارے میں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ عوام اسے مستقبل کے ہادی یا نجات دہندہ کی حیثیت سے قبول کر رہے ہیں تو اس سے وہ بہت اندیشہ ناک ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق وہ اپنے پیروئوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا یہ سارا طلسم چند روزہ ہے۔