تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 41
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿41﴾
- فَاَخَذَتْهُمُپس انہیں آپکڑا
- الصَّيْحَةُچنگھاڑ
- بِالْحَقِّ(وعدہ) حق کے مطابق
- فَجَعَلْنٰهُمْسو ہم نے انہیں کردیا
- غُثَآءًخس و خاشاک
- فَبُعْدًادوری (مار)
- لِّلْقَوْمِقوم کے لیے
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان کو ایک سخت ڈانٹ نے شدنی کے ساتھ آدبوچا تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا تو خدا کی پھٹکار ہو ایسے بدبختوں پر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
صیعۃ کا مفہوم
صیعۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں اور قرآن میں یہ عذاب الٰہی کی تعبیر کے لئے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے، خواہ وہ عذاب کسی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ اس کو سخت آواز کے عذاب کے ساتھ مخصوص کردینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
حق کا مفہوم
حق سے مراد یہاں وہ وعدہ حق ہے جو تکذیب کی صورت میں بشکل عذاب لازماً ظاہر ہونے والا تھا اور جس کی پیغمبر نے ان کو خبر دے دی تھی۔
غث کا مفہوم
لفظ غشآء قرآن مجید اور کلام عرب دونوں میں دو مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انشاء اللہ سورة اعلیٰ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل بحث کریں گے۔ یہاں یہ پامال شدہ خس و خاشاک کے مفہوم میں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی اس دعا کے بعد ان پر خدا کا عذاب اس امر واقعی کے ساتھ آدھمکا جس کو لوگ محض خالی خولی دھمکی سمجھ رہے تھے اور ہم نے ان کو بالکل خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا۔
فبعداً للقوم الظلمین لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے۔ یعنی ایسے ناہنجاروں پر خدا کی پھٹکار ہو ! یہ اس عذاب کی معنوی تعبیر ہے۔ عذاب الٰہی درحقیقت خدا کی لعنت ہوتا ہے۔