تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿88﴾
- قُلْفرما دیں
- مَنْکون
- بِيَدِهٖاس کے ہاتھ میں
- مَلَكُوْتُبادشاہت (اختیار)
- كُلِّ شَيْءٍہر چیز
- وَّهُوَاور وہ
- يُجِيْرُپناہ دیتا ہے
- وَلَا يُجَارُاور پناہ نہیں دیا جاتا
- عَلَيْهِاس کے خلاف
- اِنْاگر
- كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَتم جانتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
پوچھو وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابل میں پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تم جانتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 89-88
مملکوت سے مراد
مملکوت یہاں زمام اختایر و اقتدار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ تو جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے لیکن کسی دوسرے کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی پکڑ سے کسی کو چھڑا سکے ؟ فرمایا کہ اس کا جواب بھی لامحالہ وہ یہی دیں گے کہ یہ سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ مشرکین عرب جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کے متعلق ان کا یہ تصور نہیں تھا کہ وہ ایسا اختیار و اقتدار رکھتے ہیں کہ اپنے زور و اقتدار سے وہ کسی کو خدا کی پکڑ سے بچا سکیں بلکہ وہ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجا محض اس امید پر کرتے تھے کہ یہ راضی رہیں تو ان کے طفیل میں خدا ان سے راضی رہے گا۔ اس سوال کے ساتھ بھی ان کنتم تعلمون کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے جو میتھالوجی تیار کی ہے اس میں تو تم نے یہ درجہ کسی کو نہیں دیا لیکن اگر کوئی ہے اور تم اس کو جانتے اور مانتے ہو تو ذرا اس کا نام لو۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں زمام اقتدار نہیں مانتے تو ان سے پوچھو کہ کس نے تم پر افسوس پھونکا ہے کہ بالکل تمہاری مت ماری گئی ہے اور تم خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی جے پکارتے ہو۔