Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 21

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿21﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاوہ لوگ جو ایمان لائے (مومنو)
    3. لَا تَتَّبِعُوْاتم نہ پیروی کرو
    4. خُطُوٰتِقدم (جمع)
    5. الشَّيْطٰنِشیطان
    6. وَمَنْاور جو
    7. يَّتَّبِعْپیروی کرتا ہے
    8. خُطُوٰتِقدم (جمع)
    9. الشَّيْطٰنِشیطان
    10. فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
    11. يَاْمُرُحکم دیتا ہے
    12. بِالْفَحْشَآءِبےحیائی کا
    13. وَالْمُنْكَرِاور بری بات
    14. وَلَوْلَااور اگر نہ
    15. فَضْلُ اللّٰهِاللہ کا فضل
    16. عَلَيْكُمْتم پر
    17. وَرَحْمَتُهٗاور اس کی رحمت
    18. مَا زَكٰينہ پاک ہوتا
    19. مِنْكُمْتم سے
    20. مِّنْ اَحَدٍکوئی آدمی
    21. اَبَدًاکبھی بھی
    22. وَّلٰكِنَّاور لیکن
    23. اللّٰهَاللہ
    24. يُزَكِّيْپاک کرتا ہے
    25. مَنْ يَّشَآءُجسے وہ چاہتا ہے
    26. وَاللّٰهُاللہ
    27. سَمِيْعٌسننے والا
    28. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقوش قدم کیپیروی نہ کرو اور جو شیطان کے نقوش قدم کی پیروی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی راہ سمجھاتا ہے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا۔ بلکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ سمیع وعلیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہات اوپر گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ یہ بات اچھی طرح گرہ کرلو کہ شیطان جب بھی سمجھائے گا برائیے اور بےحیائی کی راہ ہی سمجھائے گا وہ کبھی نیکی اور بھلائی کی راہ نہیں سمجھائے گا۔ یہ تنبیہ یوں تو عام ہے لیکن یہاں خاص طور پر اسی ہدایت کو مئوکد کردیا ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ کسی کے عزت و ناموس کے معاملے میں ہر اس بات کی نقل و روایت نہ شروع کر دو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہ ہو۔ جس بات کا کوئی ثبوت نہ ہو وہ محض ظن ہے اور ظن کی پیروی شیطان کی پیروی ہے۔ ایک لطیف اور باریک تنبیہ ولولا فضل اللہ علیکم و رحمتہ ماذ کی منکم من احدا بداً ولکن اللہ یزکی من یشآء یہ اسی سلسلہ کی ایک نہایت لطیف اور باریک تنبیہ ہے جو لوگ دوسروں کے عزت و ناموس کے معاملے میں ہر قسم کی رطب ویابس باتیں بےپروائی سے قبول کرلیتے اور ان کی بنا پر ان سے بدگمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا یہ رویہ غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن بلکہ ایک قسم کے ادعائے تزکیہ میں مبتلا ہیں، خواہ ان کو اپنے اس باطن کا شعور ہو یا نہ ہو۔ اسی مخفی چور سے یہاں ان لوگوں کو آگاہ کیا ہے جنہوں نے ام المومنین کے باب میں دشمنوں کی اڑائی ہوئی افواہ کو بغیر کسی نکیر کے قبول کرلیا۔ فرمایا کہ ہر شخص یاد رکھے کہ جس کو بھی کوئی پاکی و پاکیزگی حاصل ہوتی ہے محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس کی توفیق شامل حال نہ ہو تو کوئی پاک نہ ہو تو کوئی پاک نہیں ہوسکتا تو کسی کو اپنے تقویٰ و تزکیہ کا تانا غرہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کی باتیں بےتحقیق قبول کرلے۔ واللہ سمیع علیم میں اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جو شخص اپنی ذات کے معاملے میں ضرورت سے زیاہ حسن ظن میں مبتلا ہوتا ہے وہ اس بات کو نہ بھولے کہ خدا سمیع و علم ہے۔ وہ ہر شخص کی مخفی سے مخفی بات کو بھی سنتا اور جانتا ہے۔