تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 52
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿52﴾
- وَمَنْاور جو
- يُّطِعِ اللّٰهَاطاعت کرے اللہ کی
- وَرَسُوْلَهٗاور اس کا رسول
- وَيَخْشَاور ڈرے
- اللّٰهَاللہ
- وَيَتَّقْهِاور پرہیزگاری کرے
- فَاُولٰٓئِكَپس وہ
- هُمُوہی
- الْفَآئِزُوْنَکامیاب ہونے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اس سے ڈریں گے اور اس کے حدود کی پاسداری کریں گے، وہی لوگ ہیں جو فائز المرام ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یتقہ میں تخفیف کی وجہ سے لفظ کی شکل کچھ بدل گئی ہے لیکن اس قسم کی تخفیف عربی میں معروف ہے۔
مغثیث اور تقویٰ سے مراد
خشیۃ اور تقویٰ یہاں دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک خشیۃ، یہاں دل کی حالت کی تعبیر کے لئے ہے اور تقویٰ سے مراد حدود الٰہی کی پاسداری ہے۔ یعنی ایک کا تعلق باطن سے ہے۔ دوسرے کا تعلق ظاہر ہے۔
اصلی فائز المرام گروہ
فرمایا کہ اصل فائز المرام ہونے والے وہ لوگ ہیں جو نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں، اپنے تمام ذاتی اغراض و مفادات سے بالاتر ہو اللہ و رسول کی اطاعت کریں اور ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں خدا کے حدود کی پوری پوری پاسداری کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات و فلاح کے لئے اول تو مجرد دعوائے ایمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی شرط لازم ہے۔ ثانیاً محض اطاعت بھی کافی نہیں ہیب ل کہ اس اطاعت کے ساتھ خدا کی خشیت اور تقویٰ بھی ہونا ضروری ہے۔ فرمایا کہ فائولئک ھم الفآئرون یہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں رہے وہ مفاد پرست جو محض اپنے مفاد کے حد تک اللہ و رسول کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اللہ اور رسول کو ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔