تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 130
وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ﴿130﴾
- وَاِذَااور جب
- بَطَشْتُمْتم گرفت کرتے ہو
- بَطَشْتُمْگرفت کرتے ہو تم
- جَبَّارِيْنَجابر بن کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب بھی تم کسی پر حملہ آور ہوتے ہو تو حارانہ حملہ آور ہوتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فساد فی الارض پر تنبیہ
اوپر کی آیت میں قوم کے داخلی فساد مزاج کی طرف اشارہ تھا۔ یہ ان کے خارجی فساد فی الارض کی طرف اشارہ ہے۔ جنگ اگر مجرد اپنی قوت وصولت کے مظاہرے اور دوسروں کو مغلوب و محکوم بنانے کے لئے ہو تو یہ فساد فی الارض ہے۔ یہ جائز صرف اس صورت میں ہے جب یہ کسی شر و فساد کے مٹانے کے لئے ہو۔ اس صورت میں بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی نیکی بلکہ خدا کی عبادت بن جاتی ہے۔ صلاحین کے ہاتھوں دنیا میں جو جہاد ہوئے ہیں وہ ہمیشہ یا تو مدافعت میں ہوئے ہیں یا استیصال فتنہ کے لئے اور یہ دونوں صورتیں حمایت حق اور اعلائے کلمتہ اللہ کی ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو اس برائی سے بھی روکنے کی کوشش کی۔ فرمایا کہ تمہاری جن گیں سب جبار نہ ہیں۔ تم دوسروں کو اپنا غلام و محکوم بنانے کے لئے خدا کی زمین میں خونریزی کرتے ہو جو فساد فی الارض ہے۔