تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 33
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ﴿33﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- نَحْنُہم
- اُولُوْا قُوَّةٍقوتے والے
- وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍاور بڑے لڑنے والے
- وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِاور فیصلہ تیری طرف (میرے اختیار میں)
- فَانْظُرِيْتو دیکھ لے
- مَاذَاکیا
- تَاْمُرِيْنَتجھے حکم کرنا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور اعلیٰ جنگی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے تو غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
درباریوں کا مشورہ
درباریوں نے کہا کہ ہم وسائل جنگ اور افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی طاقتور ہیں اور ہمارے آدمی جنگی مہارت و بسالت کے اعتبار سے بھی ممتاز و نامور ہیں تو آپ اگر جنگ کا فیصلہ فرمائیں تو ہم حریف سے ہیٹے نہیں ہیں لیکن فیصلہ بہرحال آپ کے اختیار میں آپ غور فرما لیجیے کہ کیا حکم دیتی ہیں۔
اولواقوۃ سے انہوں نے اپنی عددی قوت اور وسائل جنگ کی طرف اشارہ کیا اور اولوا باس شدید سے اپنی جنگی مہارت و بصیرت اور جرأت و بسالت کی طرف جنگ کے لئے یہی دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کا رجحان جنگ کی طرف تھا اور انہوں نے اپنا یہ رجحان ملکہ کے سامنے ظاہر کردیا۔