Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 35

  1. وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ﴿35﴾

    1. وَاِنِّىْاور بیشک میں
    2. مُرْسِلَةٌبھیجنے والی
    3. اِلَيْهِمْان کی طرف
    4. بِهَدِيَّةٍایک تحفہ
    5. فَنٰظِرَةٌپھر دیکھتی ہوں
    6. بِمَکیا (جواب) لے کر
    7. يَرْجِعُلوٹتے ہیں
    8. الْمُرْسَلُوْنَقاصد
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور میں ان کے پاس اپنے سفیر ہدیہ کے ساتھ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ سفیر کیا جواب لاتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وانی مرسلۃ الیھم بھدیۃ فنظرۃ بم یرجمع المرسلون (35) ملکہ نے جنگ کے بجائے مصالحت و استمالت کی پالیسی اختیار کرنے کا مشوہ دیا اور کہا کہ میں پہلے اپنے سفیروں کے ذریعہ سے حضرت سلیمان کے پاس تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ہمارے اس جذبہ خیر سگالی کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے اور ہمارے سفیر ان کی طرف سے کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ فنظرۃ بم یرجع المرسلون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ملکہ کو اپنی اس سفارش کی کامیابی کی کچھ زیادہ توقع نہیں تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ حضرت سلیمان کے سامنے اصول کا ہے۔ ان کو تحفوں اور ہدیوں سے رام کرنا ممکن نہیں ہے لیکن وہ جنگ سے بچ کر معاملے کو طے کرنے کی کوئی ایسی راہ نکالنا چاہتی تھیں جو ان کے اور ان کے اہل ملک کے لئے بہتر ہو اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے مزاج میں سلامت روی اور عاقبت بینی تھیں۔