Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 45

  1. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ﴿45﴾

    1. وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآاور تحقیق ہم نے بھیجا
    2. اِلٰىطرف
    3. ثَمُوْدَثمود
    4. اَخَاهُمْان کے بھائی
    5. صٰلِحًاصالح
    6. اَنِکہ
    7. اعْبُدُوا اللّٰهَاللہ کی عبادت کرو
    8. فَاِذَاپس ناگہاں
    9. هُمْوہ
    10. فَرِيْقٰنِدو فریق ہوگئے
    11. يَخْتَصِمُوْنَباہم جھگڑنے لگے وہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو اس پیغام کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا کہ لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تو دو فریق بن کر آپس میں جھگڑنے لگے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے مضمون … آیات 58-45 اوپر فرعون کے تمرد، حضرت سلیمان کی شکر گزاری اور ملکہ سبا کی سلامت روی کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ علود استکبار کا انجام کیا ہوتا ہے اور شکر گزاری و فروتنی کا صلہ کیا ملتا ہے۔ اب خاص عرب کی اقوام بائدہ میں سے دو قوموں … قوم ثمود و قوم لوط … کے افساد اور ان کے اجام کا حالہ دیا تاکہ قریش یہ نہ سمجھیں کہ یہ دور کے ملکوں … مصر، فلسطین اور یمن … کے واقعات ہیں۔ بلکہ خود اپنے ملک کے اندر کی ان قوموں کے انجام سے سبق لیں جن کے علود استکبار کے نتائج کی داستان سنانے کے لئے ان کے عالی شان تعمیرات کے کھنڈر آج بھی ان کے سامنے موجود ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاتھم صلحاً ان اعبدواللہ فاذا ھم خریقن یختصمون (45) حضرت صالح کی دعوت اور اس کا ردعمل یعنی حضرت صالح نے اپنی قوم کو اللہ واحد کی بندگی اور اسی کی اطاعت کی دعوت دی۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جس میں کسی اختلاف و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اس کا سب کو خیر مقدم کرنا تھا لیکن ہوا یہ کہ کچھ لوگ تو حضرت صالح پر ایمان لائے اور دوسرے بہت سے اشرار و مفسدین اس دعوت حق کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ایمان پر لائے اور دوسرے بہت سے اشرار ومفسدین اس دعوت حق کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور دونوں میں بحث و نزاع شروع ہوگئی۔