تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 23
وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ﴿23﴾
- وَلَمَّااور جب
- وَرَدَوہ آیا
- مَآءَپانی
- مَدْيَنَمدین
- وَجَدَاس نے پایا
- عَلَيْهِاس پر
- اُمَّةًایک گروہ
- مِّنَسے۔ کا
- النَّاسِلوگ
- يَسْقُوْنَپانی پلا رہے ہیں
- وَوَجَدَاور اس نے پایا (دیکھا
- مِنْ دُوْنِهِمُان سے علیحدہ
- امْرَاَتَيْنِدو عورتیں
- تَذُوْدٰنِروکے ہوئے ہیں
- قَالَاس نے کہا
- مَا خَطْبُكُمَاتمہارا کیا حال ہے
- قَالَتَاوہ دونوں بولیں
- لَا نَسْقِيْہم پانی نہیں پلاتیں
- حَتّٰىجب تک کہ
- يُصْدِرَواپس لے جائیں
- الرِّعَآءُچرواہے
- وَاَبُوْنَااور ہمارے ابا
- شَيْخٌ كَبِيْرٌبہت بوڑھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب وہ مدین کے کنوئیں پر پہنچ اتو اس نے اس پر لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھی جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے اور ان سے ورے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا تمہارا کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مآء سے مراد
مآء سے مراد چشمہ بھی ہوسکتا ہے اور کنواں بھی۔ تو رات میں کنوئیں ہی کا ذکر آیا ہے ویسے پہاڑی چشمے بھی کنوئوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ بالعموم ان تک پہنچنے کے راستے نہایت تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان پر پانی پینا اور پلانا کوئی سہل کام نہیں ہوتا بالخصوص جب کہ پانی پینے پلانے والوں کی بھیڑ بھی ہو۔
ایک واقعہ کا حضرت موسیٰ پر اثر
حضرت موسیٰ ؑ مدین پہنچے تو اس کے کنوئیں یا چشمے پر بیٹھ گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ چرواہوں کی ایک بھیڑ اپنے اپنے گلوں کو پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں اپنیگ لے کو روکے ہوئے ان سے پرے کھڑی ہیں۔ لفظ تذرون سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا گلہ تو گھاٹ پر پہنچ کر پانی پہ پینے کے لئے آگے بڑھنے کے لئے زور لگا رہا ہے لیکن ان بیچاریوں کو زبردستی اس کو پیچھے ہٹانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے سامنے کیا مشکل ہے ؟ یہاں آ کر تم اپنے گلے کو کیوں رو کے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں گلے کی دیکھ بھال ہمیں کرنی پڑ رہی ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس بھیڑ کے اندر گھس کر اپنے گلے کو پانی پلا سکیں اس وجہ سے ہمیں چرواہوں کے وپ اس ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ اپنے گلے ہٹا نہ لیں ہم اپنے گلے کو پانی نہیں پلا سکتے۔