Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 28

  1. قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ع﴿28﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. ذٰلِكَیہ
    3. بَيْنِيْمیرے درمیان
    4. وَبَيْنَكَاور تمہارے درمیان
    5. اَيَّمَاجو
    6. الْاَجَلَيْنِمدت دونوں میں
    7. قَضَيْتُمیں پوری کروں
    8. فَلَا عُدْوَانَکوئی جبر (مطالبہ) نہیں
    9. عَلَيَّمجھ پر
    10. وَاللّٰهُاور اللہ
    11. عَلٰيپر
    12. مَا نَقُوْلُجو ہم کہہ رہے ہیں
    13. وَكِيْلٌگواہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا کہ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کر دوں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور اللہ ہمارے اس قول وقرار پر جو ہم کر رہے ہیں، گواہ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیشکش کی منظوری حضرت موسیٰ ؑ نے یہ پیشکش اور یہ شرط دذونوں منظور کرلیں۔ فرمایا کہ ان دونوں مدتوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کرسکا مجھے اس کا اختیار حاصل رہے گا۔ نقول یہاں قول وقرار اور عہد و پیمان کے مفہوم میں ہے یعنی اس وقت ہم جو قول وقرار کر رہے ہیں اس پر ہم اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔