تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 31
وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ﴿31﴾
- وَاَنْاور یہ کہ
- اَلْقِڈالو
- عَصَاكَاپنا عصا
- فَلَمَّا رَاٰهَاپھر جب اس نے اسے دیکھا
- تَهْتَزُّلہراتے ہوئے
- كَاَنَّهَاگویا کہ وہ
- جَآنٌّسانپ
- وَّلّٰىوہ لوٹا
- مُدْبِرًاپیٹھ پھیر کر
- وَّاور
- َمْ يُعَقِّبْپیچھے مڑ کر نہ دیکھا
- يٰمُوْسٰٓياے موسیٰ
- اَقْبِلْآگے آ
- وَلَا تَخَفْاور تو ڈر نہیں
- اِنَّكَبیشک تو
- مِنَسے
- الْاٰمِنِيْنَامن پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو جب اس نے اس کی اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ اور پھر مڑ کے نہ دیکھا۔ اے موسیٰ ! آگے آئو اور ڈرو نہیں، تم بالکل مامون ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پہلا معجزہ
ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ حضرت موسیٰ نے اس ہدایت کی تعمیل کی تو دیکھا کہ عصا سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ سخت دہشت زدہ ہوئے اور اس طرح پیچھے کو بھاگے کہ اس کی طرف مڑ کے دیکھنے کی بھی جرأ نہیں کی۔ ولم یعقب کی وضاحت سورة نمل کی آیت کے تحت ہوچکی ہے۔
حضرات انبیاء پر ابتدائی مشاہدات کا اثر
حضرت انبیائے کرام (علیہم السلام) کو نبوت کے ابتدائی مشاہدات بالکل بےسان گمان پیش آتے ہیں، نہ ان کے ذہن میں پہلے سے ان کا کوئی تصور ہوتا، نہ ارمان، اس وجہ سے شروع شروع میں وہ ان سے گھبراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بالتدریج ان سے مانوس کردیتا ہے۔ ساحروں، کا ہنوں، متنبیوں اور مفتریوں کے ذہن میں تو پہلے سے ایک اسکیم ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے بہت سے پاپڑ بیلتے ہیں اور جب ان کو عوام فریبی کے لئے کوئی اشغلہ ہاتھ آجاتا ہے تو اس کو اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن حضرات انبیائے کرام اس قسم کے دساوس سے بالکل پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو کوئی معجزہ دیا جاتا ہے تو وہ ان کے لئے ایک بالکل انوکھی چیز ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے جانے والے تھے اس کے ساحروں کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اپنی لاٹھیوں اور سیوں کو سانپ بنا دیتے اور اس فن کو حاصل کرنے کے لئے نہیں معلوم ہو کیا کیا ریاضتیں کرتے اور جب اس میں کامیاب ہوجاتے تو سمجھتے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی مراد حاصل ہوگئی لیکن حضرت موسیٰ کا حال یہ ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی لاٹھی کو سانپ بنا دیا تو وہ اس سے خوف زدہ ہو کر بھاگے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس ابتدائی مشاہدہ کے اس پہلو کو خاص طور پر اسی لئے نمایاں فرمایا ہے کہ آپ کے جس معجزے کو فرعونیوں نے سحر و ساحری کا کرشمہ قرار دیا اس کو دیئے جانے کے وقت حضرت موسیٰ پر کیا گزری !
یموسی اقبل ولاتخف انک من الامنین۔ حضرت موسیٰ پر یہ اضطراری دہشت جب طاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نہایت رافت کے ساتھ ان کو اطمینان دلایا کہ اے موسیٰ ! آگے بڑھو، اس کو اٹھائو، اس سے تمہارے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ خطرہ ہے تو تمہارے دشمنوں کے لئے ہے۔ تم ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہو۔ سورة نمل میں یہی مضمون لایخاف لدی المرسلون کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی تم تو ہمارے ایک رسول ہو۔ ہم اپنے رسولوں کو اپنے خاص اسلحہ سے مسلح کرتے ہیں۔ ان سے جو خطرہ پیش آنا ہے وہ ہمارے دشمنوں کو پیش آتا ہے نہ کہ ہمارے رسولوں کو۔