تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 68
وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿68﴾
- وَرَبُّكَاور تمہارا رب
- يَخْلُقُپیدا کرتا ہے
- مَا يَشَآءُجو وہ چاہتا ہے
- وَيَخْتَارُاور وہ پسند کرتا ہے
- مَا كَانَنہیں ہے
- لَهُمُان کے لیے
- الْخِيَرَةُاختیار
- سُبْحٰنَ اللّٰهِاللہ پاک ہے
- وَتَعٰلٰىاور برتر
- عَمَّا يُشْرِكُوْنَاس سے جو وہ شریک کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تیرا رب ہی پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ پاک و برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرشتوں کی ایک حیثیت
یہاں یختار کے بعد بھی مایشآء بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یہ فرشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو بھی خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور اگر ان کو اپنا مقرب و برگزیدہ بنایا ہے تو اسی نے بنایا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اللہ یضطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس (الحج :75) (اللہ منتخب کرتا ہے اپنے رسول فرشتوں میں سے بھی اور لوگوں کے اندر سے بھی) مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو جو برتری باعتبار خلق یا باعتبار تقرب حاصل ہے، وہ خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔ اس چیز کی بنا پر ان کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوگیا ہے کہ ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا دیا جائے۔ ماکان لھم الخیرۃ ان کو بذات خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ سبحن اللہ و تعلیٰ عما یشرکون اللہ تعالیٰ اس قسم کی تمام نسبتوں سے پاک اور برتر ہے۔ اگر کسی کو اس کے اختیارات اور اس کی صفات میں شریک بنا دیا جائے تو اس سے اس کی تمام اعلیٰ صفات کی نفی ہوجاتی ہے … یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اوپر آیت 64 میں جن شرکاء کا ذکر آیا ہے، وہ مشرکین عرب کے مطابق، ملائکہ ہی کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے تھے اس وجہ سے قرآن نے یہاں فرشتوں کی اصل حیثیت واضح فرما دی کہ ان کو خدا کی مخلوقات میں فی الجملہ برتری تو حاصل ہے لکنق یہ خدا داد ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ان کی ذاتی نہیں ہے۔