تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 79
فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ﴿79﴾
- فَخَرَجَپھر وہ نکلا
- عَلٰيپر (سامنے)
- قَوْمِهٖاپنی قوم
- فِيْمیں (ساتھ)
- زِيْنَتِهٖاپنی زیب و زینت
- قَالَکہا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يُرِيْدُوْنَچاہتے تھے
- الْحَيٰوةَ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- يٰلَيْتَاے کاش
- لَنَا مِثْلَہمارے پاس ہوتا ایسا
- مَآ اُوْتِيَجو دیا گیا
- قَارُوْنُقارون
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَذُوْ حَظٍّنصیب والا
- عَظِيْمٍبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس وہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے نکلا تو جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے انہوں نے کہا کاش ہمیں بھی وہی کچھ حاصل ہوتا جو قارون کو حاصل ہے۔ بیشک وہ بڑا ہی نصیبہ ور ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قارون کا جلوس اور عوام پر اس کا اثر
معلوم ہوتا ہے اس کے اسی دوران میں اپنے زور و اثر اور اپنی قوت و جمعیت کی نمائش کے لئے کوئی جلوس نکالا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ اور انکے ساتھیوں کو مرعوب اور اپنی جمعیت میں اضافہ کرے۔ فی زینتہ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس موقع پر اس نے اپنی دولت و حشمت کا خاص طور پر مظارہ کیا اس لئے کہ عوام کا الانعام کو سب سے زیادہ یہی چیز متاثر کرتی ہے۔ یہ بعینیہ اسی طرح کی حرکت ہے جس کے تماشے آئے دن آپ کے لیڈر حضرات آپ کے شہروں اور قصبوں میں دکھاتے رہتے ہیں۔ اس کا اثر، ان لوگوں پر جو اسی دنیا کی دولت کو سب کچھ سمجھتے ہیں، یہ پڑا کہ وہ اس کا نعرہ لگانے لگے کہ بیشک قارون بڑا ہی نصیبہ ور ہے !