Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 87

  1. وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ﴿87﴾

    1. وَلَا يَصُدُّنَّكَاور وہ تمہیں ہرگز نہ روکیں
    2. عَنْسے
    3. اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کے احکام
    4. بَعْدَبعد
    5. اِذْجبکہ
    6. اُنْزِلَتْنازل کیے گئے
    7. اِلَيْكَتمہاری طرف
    8. وَادْعُاور آپ بلائیں
    9. اِلٰى رَبِّكَاپنے رب کی طرف
    10. وَاور
    11. لَا تَكُوْنَنَّتم ہرگز نہ ہونا
    12. مِنَسے
    13. الْمُشْرِكِيْنَجمع مشرک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ تم کو اللہ کی آیات سے روکنے نہ پائیں جب کہ وہ تمہاری طرف اتاری جا چکی ہیں اور تم اپنے رب کی دعوت دو اور مشرکوں میں سے نہ بنو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ورایصدنک عن ایت اللہ بعد اذ انزلت الیک وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین 87 مشرکین کو جس چیز سے سب سے زیادہ چڑ تھی اس پر سب سے زیادہ زور یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت مزید تاکید کے ساتھ ہے کہ خواہ یہ مخالفین کتنا ہی زور لگائیں لیکن یہ اللہ کی آیات سے تمہیں روکنے نہ پائیں۔ یہ جن باتوں سے چڑتے ہیں ان کو برملا کہو اور ڈنکے کی چوٹ کہو۔ خدا کی جو بات تم پر نازل ہوچکی ہے اب نہ وہ واپس ہو سکتی اور نہ دبائی جاسکتی ہے۔ اب اس کے بلاغ کی ذمہ داری تم پر عائد ہوچکی۔ خدا کی بات کے ہوتے اس سے انحراف ہلاکت کی راہ پر چلنا ہے۔ وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائو اور مشرکین میں سے نہ بنو۔ یہ خطاب بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا خطاب اوپر کی آیت میں گزر چکا ہے۔ یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ دعوت توحید سے تھی اس وجہ سے سب سے زیادہ زور اسی پر دیا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ اگر تم ان لوگوں کی مخالفت سے مرعوب ہو کر توحید کی دعوت میں کوئی مداہنت کی روش اختیار کرو گے تو تم بھی مشرکین میں سے بن جائو گے۔