Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 52

  1. قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿52﴾

    1. قُلْآپ فرمادیں
    2. كَفٰيکافی ہے
    3. بِاللّٰهِاللہ
    4. بَيْنِيْمیرے درمیان
    5. وَبَيْنَكُمْاور تمہارے درمیان
    6. شَهِيْدًا ۚگواہ
    7. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    8. مَاجو
    9. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    10. وَالْاَرْضِ ۭاور زمین میں
    11. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    12. اٰمَنُوْاایمان لائے
    13. بِالْبَاطِلِباطل پر
    14. وَكَفَرُوْااور وہ منکر ہوئے
    15. بِاللّٰهِ ۙاللہ کے
    16. اُولٰٓئِكَوہی ہیں
    17. هُمُ الْخٰسِرُوْنَوہ گھاٹا پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کا جنہوں نے انکار کیا وہی لوگ اصلی نامراد ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل کفی باللہ بینی و بینکم شھیدا ج یعلم ما فی السموت والارض ط والذین امنوا بالباطل و کفروا باللہ اولئک ھم الخسرون (52) مطب یہ ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے یہ شبہات و اعتراضات جواُٹھائے جارہے ہیں یہ تو محض اوپری باتیں ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل گواہی دے رہے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو کچھ تم ان کو بتا رہے ہو حرف حرف ٹھیک ہے تو ایسے لوگوں سے زیادہ بحث و حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لئے کافی ہے کہ فی الحقیقت تم پر میری صداقت واضح نہیں ہوئی اس وجہ سے تم نے انکار کیا یا سب کچھ جان بوجھ کر محض اپنی مشخیت کی پاسداری میں تم نے میری تکذیب کی۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے ہر بھید سے اچھی واقف ہے، وہ قیامت کے دن سارا راز کھول دے گا۔ البتہ یہ یادر رکھو کہ جو لوگ جان بوجھ کر باطل پر ایمان لائیں گے اور خدا کا انکار کریں گے وہی لوگ آخرت میں اصلی نامراد ہونے والے ہیں۔