تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 105
Tafseerوَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ﴿105﴾
- وَلَا تَكُوْنُوْااور نہ ہوجاؤ
- كَالَّذِيْنَان کی طرح جو
- تَفَرَّقُوْامتفرق ہوگئے
- وَاخْتَلَفُوْااور باہم اختلاف کرنے لگے
- مِنْ بَعْدِاس کے بعد
- مَاکہ
- جَآءَھُمُان کے پاس آگئے
- الْبَيِّنٰتُواضح حکم
- وَاُولٰٓئِكَاور یہی لوگ
- لَھُمْان کے لیے
- عَذَابٌعذاب
- عَظِيْمبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور وہی ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت میں یہود و نصاری کے انجام سے مسلمانوں کو عبرت دلائی ہے کہ وہ خدا کی واضح تنبیہات کے باوجود خدا کی رسی چھوڑ بیٹھے اور پھر جس کے ہاتھ میں جو رسی آگئی وہ اسی کو حبل اللہ سمجھ بیٹھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان ایسے اختلافات پھوٹ پڑے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی۔ فرمایا کہ تم بھی انہیں یہود و نصاری کی طرح اپنی دنیا و عاقبت نہ برباد کرلینا۔
یہ فلاح کی راہ نہیں بلکہ عذاب الیم کی مستوجب ہے۔