Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 151

  1. سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ﴿151﴾

    1. سَنُلْقِيْعنقریب ہم ڈالدیں گے
    2. فِيْمیں
    3. قُلُوْبِدل (جمع)
    4. الَّذِيْنَ كَفَرُواجنہوں نے کفر کیا (کافر)
    5. الرُّعْبَہیبت
    6. بِمَآ اَشْرَكُوْااس لیے کہ انہوں نے شریک کیا
    7. بِاللّٰهِاللہ کا
    8. مَاجس
    9. لَمْ يُنَزِّلْنہیں اتاری
    10. بِهٖاس کی
    11. سُلْطٰنًاکوئی سند
    12. وَمَاْوٰىھُمُاور ان کا ٹھکانہ
    13. النَّارُدوزخ
    14. وَبِئْسَاور برا
    15. مَثْوَىٹھکانہ
    16. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم ان کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اس وقت ذرا ان کا حوصلہ جو بڑ گیا ہے تو یہ محض ایک وقتی اور عارضی نشہ ہے۔ اس کی کوئی پائیدار بنیاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد ان کے حوصلے پست کردے گا اور ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کا رعب ڈال دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے جن کی کوئی شہادت نہ تو عقل و فطرت کے اندر موجود ہے، نہ نظام کائنات میں اور نہ خدا کے اتارے ہوئے صحیفوں میں۔ ایسی وہمی چیزیں اول تو حقائق کے مقابلے میں کچھ سہارا نہیں دے سکتیں، دوسرے اتنے مختلف دیوتاؤں کے ساتھ ان کی وابستگی ان کے دلوں اس طرح منتشر اور پراگندہ کیے ہوئے ہے کہ ان کو وہ دل جمعی، یکسوئی کبھی حاصل ہی نہیں ہوسکتی جو تمام عزم اور حوصلے کی بنیاد ہے۔ آیت میں ’ ظالمین ‘ سے مراد مشرکین ہیں۔ شرک کو ظلم سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر ہر دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ ازانجملہ یہ بات بھی ہے کہ شرک در حقیقت انسان کا خود اپنے نفس پر بہت بڑا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات سے اشرت بنایا ہے۔ اس شرف کا احساس ہی ہے جس کے اندر اس کی تمام قوت و عظمت کا راز مضمر ہے۔ انسان جب اپنے سے فروتر مخلوق کو اپنا راز و حاکم مان کر اس کی پرستش کرنے لگتا ہے تو گویا وہ شاہین ہو کر کنجشکِ فرومایہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے اور اس طرح نہ صرف اپنی شاہینی کھو دیتا ہے بلکہ کنجشک سے بھی زیادہ حقیر و فرومایہ ہو کر رہا جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث مکی سورتوں میں آئے گی۔