تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 166
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿166﴾
- وَمَآاور جو
- اَصَابَكُمْتمہیں پہنچا
- يَوْمَدن
- الْتَقَىمڈبھیڑ ہوئی
- الْجَمْعٰنِدو جماعتیں
- فَبِاِذْنِتو حکم سے
- اللّٰهِاللہ
- وَلِيَعْلَمَاور تاکہ وہ معلوم کرلے
- الْمُؤْمِنِيْنَایمان والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن تمہیں جو مصیبت پہنچی یہ اللہ کے حکم سے پہنچی اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو ممیز کردے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
راہ حق کی آزمائشوں کی حکمت : اب یہ اس ابتلاء کی حکمت واضح کی جا رہی ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے خدا کے حکم سے پیش آیا ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ سچے مسلمانوں اور منافقوں کو اچھی طرح واضح کردے تاکہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ کون لوگ جماعت کے اندر قابل اعتماد ہیں کون لوگ نہیں مقصد یہ ہے کہ یہ آزمائش جماعتی تطہیر کے لیے ضروری تھی۔ اگر مخلصین اور منافقین دونوں اسی طرح رلے ملے رہتے تو معلوم نہیں مفسد عناصر کس وقت پوری جماعت کا بیڑا غرق کردیتے۔