Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 176

  1. وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿176﴾

    1. وَلَااور نہ
    2. يَحْزُنْكَآپ کو غمگین کریں
    3. الَّذِيْنَجو لوگ
    4. يُسَارِعُوْنَجلدی کرتے ہیں
    5. فِي الْكُفْرِکفر میں
    6. اِنَّھُمْیقیناً وہ
    7. لَنْ يَّضُرُّواہرگز نہ بگاڑ سکیں گے
    8. اللّٰهَاللہ
    9. شَيْئًاکچھ
    10. يُرِيْدُچاہتا ہے
    11. اللّٰهُاللہ
    12. اَلَّاکہ نہ
    13. يَجْعَلَدے
    14. لَھُمْان کو
    15. حَظًّاکوئی حصہ
    16. فِيمیں
    17. الْاٰخِرَةِآخرت
    18. وَلَھُمْاور ان کے لیے
    19. عَذَابٌعذاب
    20. عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ لوگ تمہارے لیے باعث غم نہ بنیں جو کفر کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیات نمبر 176 تا 179، یہ آیتیں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ احد کی شکست کے بعد، جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے اور ہم سورة کی تمہید میں بھی اشارہ کرچکے ہیں۔ وہ لوگ جو منافقانہ اسلام کی صفوں میں آگھسے تھے یا تو علانیہ کفر کی طرف پلٹ گئے یا پلٹ جانے کے لیے تمہیدیں استوار کرنے لگ گئے۔ یہ لوگ اس طمع خام میں مبتلا ہوگئے کہ قریش کی حمایت کر کے اس دین کو شکست دی جاسکتی ہے۔ چناچہ ان کی تمام سرگرمیاں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور کفر اور اہل کفر کی حمایت کے لیے وقف ہوگئیں۔ اس صورت حال پر ارشاد ہوا کہ اس سے ذرا بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کفر کی راہ میں ان لوگوں کی یہ سرگرمیاں اللہ اور اس کے دین کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ جو لوگ کفر کو ایمان پر ترجیح دے رہیں اللہ بھی ان کے لیے یہی چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا حصہ صرف دردناک عذاب ہو۔ اللہ نے ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے باوجود ان کو جو ڈھیل دے رکھی ہے اس ڈھیل کو یہ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی کامیابی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کے گناہوں کا پیمانہ اچھی طرح لبریز ہوجائے تاکہ جب ان کی کشتی ڈوبے تو پھر اس کو ابھرنا نصیب نہ ہو اس ڈھیل کے بعد ان کے لیے صرف ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ایسا عذاب جس کے بعد کسی کو بھی ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی بلکہ صرف دنیا اور آخرت کی رسوائی ہوگی۔