Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 196

  1. لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ﴿196﴾

    1. لَا يَغُرَّنَّكَنہ دھوکہ دے آپ کو
    2. تَقَلُّبُچلنا پھرنا
    3. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
    4. فِيمیں
    5. الْبِلَادِشہر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ملک کے اندر کافروں کی یہ سرگرمیاں تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لَا يَغُرَّنَّكَ میں خطاب عام ہے :۔ لَا يَغُرَّنَّكَ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ اس طرح واحد کے صیغے سے خطاب، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مخاطب ہے۔ تَقَلُّبُ کے معنی آمد و شد، چلت پھرت اور ایاب و ذہاب کے ہیں۔ موقع و محل کے لحاظ سے اس کے اندر غرور، اکڑ اور دندنانے کے معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں موقع کلام دلیل ہے کہ اس سے مراد اس وقت کفار کا ملک کے حالات و معاملات میں وہ آزادانہ و خود مختارانہ تصرف ہے جو مسلمانوں مقابل میں ان کو حاصل تھا۔ اس وقت تک مسلمان ابھی کمزور اور مظلوم تھے۔ اور کفار اپنی سطوت گھمنڈ میں ہر جگہ دندناتے پھر رہے تھے اور کمزور مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے تھے۔