تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 74
Tafseerیَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿74﴾
- يَّخْتَصُّوہ خاص کرلیتا ہے
- بِرَحْمَتِهٖاپنی رحمت سے
- مَنْجس کو
- يَّشَآءُوہ چاہتا ہے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- ذُو الْفَضْلِفضل والا
- الْعَظِيْمِبڑا۔ بڑے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ الایۃ میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ خاتم النبیین ﷺ کی رسالت میں ایک عظیم اور بےپایاں برکت و رحمت ہے۔ دوسری اس بات کی طرف کہ یہ بنی اسماعیل پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے کہ اس نے ان کے خاندان کو اس عظیم اور عالم گیر برکت کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا۔
اس سے لازمی نتیجہ کے طور پر دو باتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ بنی اسماعیل پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کی قدر کریں اور اس کے شکر گزار ہوں۔ دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کے غصہ اور حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم برکت سے امیوں کو نوازا۔
وہ جس کو چاہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرے، اس کی مشیت میں خود اس کی حکمت کے سوا اور کسی کو بھی دخل نہیں ہے۔