تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 17
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ﴿17﴾
- فَسُبْحٰنَپس پاکیزگی (بیان کرو)
- اللّٰهِاللہ
- حِيْنَجب
- تُمْسُوْنَتم شام کرو (شام کے وقت)
- وَحِيْنَاور جب
- تُصْبِحُوْنَتم صبح کرو (صبح کے وقت)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے اور جس وقت صبح کرتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحوان، ولہ الحمد فی السموات والارض وعشیاء وحین تظھرون (17۔ 18)
اب یہ تقاضا بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی اس یکتائی اور اس کے قانونِ مجازات کا جس کا بیان اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو ہر ایک کا فرض ہے کہ صرف اللہ ہی کی تسبیح کرے شام و صبح اور عشا کے وقت اور ظہ رکے وقت۔
’ ولہ الحمد فی السموات والارض۔ ‘ یہ اوقاتِ تسبیح کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ بطور تنبیہ و تذکیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا ہی کی تسبیح کی جو دعوت دی جا رہی ہے یہ کوئی بیگانہ دعوت نہیں ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے سے خدا ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ تو جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کر رہے ہیں ان کا سر اس کائنات کے مجموعی سر سے بالکل بےجوڑ ہے البتہ جو لوگ خدا کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں وہ اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس میں دعوت کے ساتھ ساتھ ایک قسم کی بےنیازی کا اظہار بھی ہے کہ اگر کچھ بدقسمت خدا کی حمد و تسبیح سے گریز کریں گے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کائنا تمہیں اس کی حمدو تسبیح کرنے والوں کی کمی ہے، آسمانوں اور زمین کا ہر گوشہ اس کی حمد کرنے والوں سے معمور ہے۔
یہاں جو اوقات مذکور ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و تسبیح کے لئے وہ اوقات خاص طور پر پسند فرمائے ہیں جن کی اس کی کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے۔ یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو انسان غور کرنے والا ہے یہ اوقات اس کے ذہن و دماغ پر خ اس طور پر اثر انداز ہوتے اور اس جو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اس ذات کو اس وقت یاد کرے جس کے حکم سے یہ عظیم تغیر اس دنیا میں واقع ہوا ہے۔ اگر ان اوقات میں بھی کوئی شخص اللہ کی نشانیوں اور اس کی شانوں سے متاثر نہیں ہوتا تو وہ نہایت بلید جانور ہے۔
اوقاتِ نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو اس آیت میں نہایت واضح طور پر موجود ہی ہے۔ تمسون میں اگر عصر اور مغرب دونوں کو شامل کرلیجئے اور عشیاء سے عشاء کو مراد لیجئے تو تمام اوقات نماز آجاتے ہیں۔ لفظ ’ عشی ‘ کا اطلاق زوال کے وقت پر بھی ہوتا ہے اور مغرب سے لے کر عشاء کے وقت پر بھی، اس وجہ سے اس سے عشاء کا وقت مراد لینے میں لفظ سے کوئی تجاوز نہیں ہوگا۔
2۔ آگے کا مضمون…آیات 19۔ 29
آگے ایک مناسب ترتیب کے ساتھ بعث و قیامت اور توحید کے دلائل آرہے ہیں۔ قیامت کا بیان اس پہلو سے ہوا ہے کہ اس دنیا کی اصلی غایب و حکمت قیامت ہی سے واضح ہوگی اور توحید کا مضمون اس پہلو سے اس کے ساتھ آیا ہے کہ توحید کے بغیر قیامت ایک بالکل بےمعنی چیز ہو کے رہ جاتی ہے۔ جب نظریہ یہ ہو کہ آدمی کے اعمال خواہ کچھ ہی ہوں شرکاء و شفعاء اس کو بخشوا لیں گے تو قیامت کا آنا نہ آنا دونوں یکساں ہوا۔ قیامت کی ساری اہمیت اس عقیدے میں ہے کہ اس دن خدا کے کامل حق وعدل کا ظہور ہوگا، اور کسی کا زور و اثر بھی اس کے بےلاگ عدل کے ظہور میں مزاحم نہ ہوسکے گا…اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔