Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 48

  1. اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ﴿48﴾

    1. اَللّٰهُاللہ
    2. الَّذِيْ يُرْسِلُجو بھیجتا ہے
    3. الرِّيٰحَہوائیں
    4. فَتُثِيْرُتو وہ ابھارتی ہیں
    5. سَحَابًابادل
    6. فَيَبْسُطُهٗپھر وہ (بادل) پھیلاتا ہے
    7. فِي السَّمَآءِآسمان میں
    8. كَيْفَجیسے
    9. يَشَآءُوہ چاہتا ہے
    10. وَيَجْعَلُهٗاور وہ اسے کردیتا ہے
    11. كِسَفًاٹکڑے ٹکڑے
    12. فَتَرَىپھر تو دیکھے
    13. الْوَدْقَمینہ
    14. يَخْرُجُنکلتا ہے
    15. مِنْ خِلٰلِهٖ ۚاس کے درمیان سے
    16. فَاِذَآپھر جب
    17. اَصَابَ بِهٖوہ اسے پہنچا دیتا ہے
    18. مَنْ يَّشَآءُجسے وہ چاہتا ہے
    19. مِنْسے
    20. عِبَادِهٖٓاپنے بندوں
    21. اِذَا هُمْاچانک وہ
    22. يَسْتَبْشِرُوْنَخوشیاں منانے لگتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ ہی ہے جو بھتیجا ہے ہوائوں کو پس وہ بادلوں کو ابھارتی ہیں پھر اللہ ان کو پھیلا دیتا ہے آسمان میں جس طرح چاہتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے پھر تم دیکھتے ہو مینہ کو ان کے بیچے سے نکلتے ہوئے۔ پس جب وہ اس کو نازل کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ الذی یرسل الریاح تفثیر سحابا یفبطہ فی اسلماء کیف یشلم وجعلہ کسفا فتری الردق یخرج من خللہ فاذ اصبا بہ من یشاء من عبادہ اذاھم یستبشرون وان کانوا من قبل ان ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین (48۔ 49) اوپر کی آیت میں نصرت کی جو بشارت اس قطعیت کے ساتھ دی گئی ہے وقت کے ظاہری حالات اس کے بالکل خلاف تھے اس وجہ سے مسلمانوں، بالخصوص عام مسلمانوں کو، اطمینان دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت کے ظہور کے ایک ایسی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا رہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ ہی کی قدرت اور شان ہے کہ وہ ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو اپنی حکمت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے فضا میں پھیلاتا اور ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے مبینہ نکلتا ہے تو پھر جو خدا کی اس رحمت سے فیضیاب ہوتے ہیں وہ یکایک خوشیاں منانے لگتے ہیں حالانکہ اس سے ذرا پہلے وہ اس سے بالکل مایوس ہوتے ہیں…مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہی شان رحمت تمہارے لئے بھی ظاہر ہوگی۔ آج تمہیں یہ چیز بہت بعید نظرآتی ہے لیکن جب ظاہر ہوگی تو تمہیں یہ بہت قریب کی چیز معلوم ہوگی اور تم اس وقت خوش ہوجائو گے۔ ’ من قبل ان ینتزل ‘ کے بعد پھر ’ من قبلہ ‘ میں بظاہر کچھ تکرار سی محسوس ہوتی ہے لیکن غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تکرار نہیں ہے۔ بلکہ یہاں دو الگ الگ باتیں فرمائی گئی ہیں۔ یعنی بارش سے پہلے وہ بارش سے مایوس تھے اور بشارت کے ظہور سے پہلے خوشی سے۔