Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 2

  1. تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾

    1. تِلْكَیہ
    2. اٰيٰتُآیتیں
    3. الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِپر حکمت کتاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ پر حکمت کتاب کی آیات ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تلک آیت الکتب الحکیم۔ ھدی ورحمتہ للمحسنین (2۔ 3) تلک کا اشارہ الم کی طرف ہے۔ اس سورة کا قرآنی نام یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورة ایک پُر حکمت کتاب کی آیات پر مشتمل ہے لیکن حکمت کے جواہر ریزوں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا۔ ان کی قدر کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ’ محسن ‘ ہوں گے۔ ’ محسن ‘ سے مراد وہ خوب کار لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے صحیح کام لیا، اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو زندہ رکھا اور اپنی بصیرت کے حد تک جو قدم بھی اٹھایا صحیح سمت میں اٹھایا۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے یہ آیات ہدایت اور رحمت ہیں۔ وہ دنیا میں ان سے ہدایت حاصل کریں گے اور آخرت میں ان کے لئے یہ باعث فضل و رحمت ہوں گی۔ لفظ محسن پر ہم پیچھے بھی اس کتاب میں بحث کرچکے ہیں اور آگے آیت 22 میں بھی یہ آرہا ہے۔ وہاں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔ اس تمہید ہی سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں ان کی یہ ناقدری اس کتاب کے بےقیمت ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان ناقدروں کی فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو ان لوگوں کے رویے سے بددل نہیں ہونا چاہیے۔